ایران کے ساتھ ڈیل پہلی ترجیح ہے، پاکستان کے ساتھ مستقل رابطے میں ہیں: مارکو روبیو

ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے سے انکار کیا تو 'پلان بی' کی ضرورت ہوگی: مارکو روبیو
اپ ڈیٹ 22 مئ 2026 07:18pm

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ڈیل ہماری پہلی ترجیح ہے جس کے لیے ہم پاکستان کے ساتھ مستقل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پاجائے گا، تہران اپنے جوہری عزائم کو ترک اور آبنائے ہرمز کھول دے گا۔ مارکو روبیو نے دھمکی دی کہ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے سے انکار کیا تو پھر ’پلان بی‘ کی ضرورت ہوگی۔

سویڈن میں نیٹو کے وزرائے خارجہ اجلاس کے بعد مارکو روبیو نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن ہم ابھی تک کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں۔

قطری وفد کے تہران پہنچنے سے متعلق سوال پر مارکو روبیو نے کہا کہ ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان ہی اہم ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔ دیگر ممالک کے بھی اپنے مفادات اور مسائل موجود ہیں تاہم پاکستان نے اس پورے معاملے میں بہترین کردار ادا کیا ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران جارہے ہیں اور ہم ان سے مستقل رابطے میں ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ واشنگٹن کو آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کے مؤقف پر شدید تحفظات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے ’ٹولنگ سسٹم‘ متعارف کروانا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی بھی نظام ناقابلِ قبول ہوگا اور کسی بھی ملک کو یہ نظام قبول نہیں کرنا چاہیے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادی ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جس میں تہران جوہری عزائم ترک کرے اور آبنائے ہرمز بھی کھلی رہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران اس بحری گزرگاہ کو کھولنے سے انکار کرتا ہے تو اس کے لیے ایک ’پلان بی‘ ہونا ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی سیاست میں ہمیشہ یہ بحث موجود رہی ہے کہ نیٹو میں امریکا کی موجودگی اور شراکت کی نوعیت کیا ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ نیٹو یورپ کے لیے اہم ہے، لیکن اسے امریکا کے مفادات کے لیے بھی مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔

Read Comments