جنگ روکنے کی آخری کوشش: ایران میں قطری وفد کا اہم ترین سفارتی مشن
قطر کی ایک مذاکراتی ٹیم جمعے کے روز امریکا کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کے تحت تہران پہنچ گئی تاکہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے اور باقی ماندہ مسائل کے حل کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے میں مدد فراہم کی جا سکے۔ یہ بات معاملے سے واقف ایک ذرائع نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتائی۔
رپورٹ کے مطابق دوحہ، جو غزہ جنگ اور دیگر بین الاقوامی تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے، ایران جنگ میں ثالثی سے اب تک دور رہا تھا، خاص طور پر اس وقت کے بعد جب حالیہ تنازع کے دوران ایران کے میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنا۔
قطری مذاکراتی ٹیم تہران میں موجود ہے جس کا مقصد ایک ایسے حتمی معاہدے تک پہنچنے میں مدد دینا ہے جو جنگ کا خاتمہ کرے اور ایران کے ساتھ باقی ماندہ مسائل کو حل کرے۔
قطر کی وزارت خارجہ نے فوری طور پر اس حوالے سے تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
ایک سینئر ایرانی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ ابھی کوئی معاہدہ طے نہیں پایا، تاہم فریقین کے درمیان اختلافات میں کمی آئی ہے۔ ایران کی یورینیم افزودگی اور آبنائے ہرمز پر اس کے کنٹرول کے معاملات اب بھی اہم رکاوٹیں ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو بعض پیش رفت کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کچھ مثبت اشارے موجود ہیں، لیکن میں زیادہ پُرامید نہیں ہونا چاہتا، آئندہ چند روز میں صورتحال واضح ہو جائے گی۔