ایبولا وائرس کا پھیلاؤ، مردے کو الوداع کہنے پر پابندی عائد

کانگو میں ایبولا وائرس کی لہر شدت اختیار کر گئی، ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ رہی ہے۔
شائع 23 مئ 2026 09:35am

جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے صوبہ اِتوری کی حکومت نے روایتی تدفین اور مردوں کے آخری دیدار پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ ۔ یہ سخت فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب مقامی لوگوں اور پولیس کے درمیان ایک لاش کو حاصل کرنے کے معاملے پر شدید جھڑپیں ہوئیں۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق صوبہ اتوری کے قصبے ’روامپارا‘ میں ایک مقامی فٹ بالر ’ایلی منونگو وانگو‘ کی موت کے بعد، اس کے اہلخانہ نے یہ ماننے سے انکار کر دیا کہ یہ موت ایبولا کی وجہ سے ہوئی ہے اور انہوں نے انتظامیہ کی طرف سے مروجہ حفاظتی تدفین کو مسترد کرتے ہوئے لاش زبردستی حاصل کرنے کی کوشش کی، جس پر پولیس اور عوام میں تصادم ہو گیا۔

طبی ماہرین کے مطابق، ایبولا کے مریض کی موت کے بعد اس کی لاش میں وائرس انتہائی متحرک اور متعدی ہوتا ہے، جس کی وجہ سے جو شخص بھی لاش کو اٹھانے، غسل دینے یا منتقل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اسے وائرس لگنے کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس کی ماہر لورا آرچر کا کہنا ہے کہ محفوظ تدفین نہ ہونا ہی اس وائرس کے پھیلنے کی بڑی وجہ ہے۔ موجودہ وباء کا پہلا کیس 24 اپریل کو صوبائی دارالحکومت ’بونیا‘ میں سامنے آیا تھا اور یہ وائرس اس وقت تیزی سے پھیلا جب قریبی قصبے ’مونگ بوالو‘ میں ایک جنازے کے دوران سوگواروں نے لاش کو چھوا تھا۔

ڈبلیو ایچ او نے ایبولا کی اس نایاب قسم ’بنڈیبگیو‘ کے پھیلاؤ کو بین الاقوامی سطح پر تشویش کا باعث بننے والی عوامی صحت کی ہنگامی صورتِ حال قرار دیا ہے۔

ایبولا ایک مہلک ثابت ہونے والا وائرس ہے جو تیز بخار، جسم میں درد، الٹی اور اسہال کا سبب بنتا ہے اور انسانی جسم کی رطوبتوں کے براہ راست ملاپ سے پھیلتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل، ٹیڈروس ایڈہانوم نے جمعہ کو تصدیق کی ہے کہ اب تک مشرقی کانگو میں ایبولا کے تقریباً 750 مشتبہ کیسز اور 177 اموات ریکارڈ ہو چکی ہیں، جبکہ پڑوسی ملک یوگنڈا میں بھی 2 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے کانگو میں ایبولا کے خطرے کی سطح ”ہائی“ سے بڑھا کر ”ویری ہائی“ کر دی، جبکہ علاقائی خطرہ برقرار اور عالمی خطرہ کم قرار دیا گیا ہے۔

اتوری کی صوبائی حکومت نے سرکاری حکم نامے کے ذریعے اب تمام تدفین صرف مخصوص طبی ٹیموں تک محدود کر دی ہے، غیر طبی یا نجی گاڑیوں میں لاشوں کی نقل و حمل پر پابندی لگا دی ہے، عوامی اجتماعات کو 50 افراد تک محدود کر دیا ہے اور مقامی فٹ بال لیگ کو بھی معطل کر دیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ریجنل ڈائریکٹر محمد یعقوب جنابی کے مطابق، اس وقت وائرس کے ساتھ ساتھ ”غلط معلومات“ کی ایک اور وباء پھیلی ہوئی ہے جس کے لیے عوامی آگاہی کی شدید ضرورت ہے۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے آئی ایف آر سی کے رضاکاروں نے اب گھر گھر جا کر مہم شروع کر دی ہے۔

عالمی سطح پر، کانگو کے مشرقی پڑوسی ملک روانڈا نے کانگو سے آنے والے یا وہاں سے گزرنے والے تمام غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے اور اپنے شہریوں یا رہائشیوں کے لیے 30 دن کا قرنطینہ لازم کر دیا ہے۔

امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت اس نایاب قسم کے علاج کی تلاش کے لیے سرگرمی سے کام کر رہی ہے، جبکہ اقوامِ متحدہ کے انسانی ہمدردی کے امور کے سربراہ، ٹام فلیچر نے ہنگامی فنڈ سے 60 ملین ڈالر جاری کرنے کا اعلان کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر کہا ہے کہ تنازعات اور آبادی کی کثیر نقل مکانی کی وجہ سے یہ انتہائی مشکل ماحول ہے لیکن ہمیں اس وباء پر قابو پانا ہوگا۔

Read Comments