مصنوعی انڈے سے چوزے کی پیدائش: ختم ہوچکی نسلوں کو دوبارہ زندہ کرنے کا حیران کن کارنامہ
امریکی بائیوٹیک کمپنی ’کولوسل بایوسائنسز‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے تیار کردہ مصنوعی انڈے کے نظام سے دو درجن سے زائد صحت مند چوزے نکلے ہیں۔ کمپنی کے مطابق یہ پیش رفت اس کے اس منصوبے میں ایک اہم قدم ہے جس کا مقصد نیوزی لینڈ کے معدوم ہو چکے دیوقامت پرندے ”ساؤتھ آئی لینڈ جائنٹ موا“ کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق کمپنی نے یہ اعلان اسی ہفتے کیا ہے۔ کولوسل بایوسائنسز ان جانوروں اور پرندوں کو واپس لانے پر کام کر رہی ہے جو صدیوں پہلے دنیا سے ختم ہو چکے ہیں۔ کمپنی کے منصوبوں میں ”موا“ کے علاوہ ”ڈوڈو“ پرندہ بھی شامل ہے۔ اس سے پہلے کمپنی یہ بھی بتا چکی ہے کہ اس نے برفانی دور کے معدوم شکاری جانور “ڈائر وولف” کے جینز پر بھی کام کیا ہے۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو اور شریک بانی بین لیم نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اب تک 26 چوزے اس مصنوعی نظام کے ذریعے نکل چکے ہیں اور ان کی نشوونما پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ چوزے کمپنی کے ہیڈکوارٹر، امریکی شہر ڈلاس میں پیدا ہوئے۔
کمپنی کے مطابق مصنوعی انڈوں کا یہ نظام ایک خاص سلیکون جھلی پر مبنی ہے جسے ایک سخت بیرونی ڈھانچے کے اندر رکھا جاتا ہے۔ یہ جھلی قدرتی انڈے کے خول کی طرح کام کرتی ہے اور بچے کو آکسیجن لینے میں مدد دیتی ہے۔ اس کے ساتھ نمی، درجہ حرارت اور گیسوں کی مقدار کو بھی کنٹرول کیا جاتا ہے تاکہ جنین قدرتی ماحول کی طرح نشوونما پا سکے۔
بین لیم کے مطابق یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر ان پرندوں کے لیے اہم ہے جن کے انڈے بہت بڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”موا“ کا انڈہ فٹبال کے سائز کے برابر تھا، اس لیے کسی موجودہ پرندے کے ذریعے اس کی افزائش ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مصنوعی انڈے کا نظام تیار کیا گیا۔
ساؤتھ آئی لینڈ جائنٹ موا ایک بہت بڑا، اڑان نہ بھر سکنے والا پرندہ تھا جو تقریباً 12 فٹ تک لمبا ہو سکتا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ پرندہ تقریباً 500 سال پہلے انسانی شکار کی وجہ سے معدوم ہو گیا تھا۔ اس کا قریب ترین زندہ رشتہ دار آسٹریلیا کا ایمو پرندہ ہے، لیکن ایمو کا قد اور انڈہ دونوں موا کے مقابلے میں بہت چھوٹے ہیں۔
کمپنی نے وضاحت کی کہ اس عمل میں سب سے پہلے بارآور پرندے کے جنین کو مصنوعی انڈے میں منتقل کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد پورا نظام قدرتی انڈے کی طرح ماحول فراہم کرتا ہے۔ جنین کی نشوونما کے دوران کیلشیم سمیت دیگر ضروری غذائی اجزا بھی دیے جاتے ہیں تاکہ ہڈیوں کی افزائش درست انداز میں ہو سکے۔ چونکہ جنین اوپر کی سطح پر نظر آتا رہتا ہے، اس لیے سائنس دان ہر مرحلے کی نگرانی براہِ راست کر سکتے ہیں۔
کمپنی کے مطابق چوزوں کو مکمل طور پر نکلنے میں تقریباً 21 دن لگے، جو اس نسل کے لیے عام مدت کے برابر ہے۔ بین لیم کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں نایاب اور خطرے سے دوچار پرندوں کے تحفظ میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق موا کو دوبارہ زندہ کرنے کے منصوبے میں ابھی کئی مشکلات باقی ہیں۔ سائنس دانوں کو قدیم ڈی این اے کی مدد سے موا کا مکمل جینیاتی نقشہ تیار کرنا ہوگا اور پھر اس کی اہم خصوصیات کو کسی زندہ قریبی نسل، جیسے ایمو، میں منتقل کرنا ہوگا۔
کمپنی کے مطابق اس وقت منصوبہ جینوم سیکوینسنگ کے مرحلے میں ہے، جس کے دوران مختلف قدیم نمونوں سے ڈی این اے حاصل کیا جا رہا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انہیں ”موا“ کے کئی اچھے معیار کے ڈی این اے نمونے ملے ہیں، جن میں ساؤتھ آئی لینڈ جائنٹ موا کے نمونے بھی شامل ہیں۔