'ایران پر کسی بھی وقت حملے کا امکان'، ٹرمپ کا بیٹے کی شادی میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

امریکی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام اور اہلکاروں نے ممکنہ حملوں کی تیاریوں اور ہائی الرٹ کے باعث اپنی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں: رپورٹ
اپ ڈیٹ 23 مئ 2026 11:54am

امریکا کی جانب سے ایران پر نئے فوجی حملے کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے، جس کے باعث خطے میں جنگ کے بادل ایک بار پھر گہرے ہو گئے ہیں۔

امریکی میڈیا چینلز بشمول ’سی بی ایس‘ اور ’ایکسیوس‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے موجودہ ملکی حالات اور ہنگامی صورتحال کے پیش نظر رواں ہفتے کے آخر میں ہونے والی اپنے بیٹے کی شادی کی تقریب میں بھی شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ خبریں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب پاکستان کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ کو رکوانے اور ایک پائیدار امن معاہدہ طے کرانے کے لیے سفارتی کوششیں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں اور پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر مذاکرات کے لیے تہران میں موجود ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مصروفیت اور وائٹ ہاؤس میں موجودگی کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کیا ہے۔

اپنے بیٹے کی شادی میں نہ جانے کی وجہ بتاتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ”حکومت سے متعلقہ حالات اور اپنے ملک امریکا کے لیے میری محبت کے باعث میں اس تقریب میں شریک نہیں ہو پا رہا، اور اس اہم ترین وقت کے دوران میرے لیے واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے اندر ہی موجود رہنا انتہائی ضروری ہے۔“

اس بیان کے فوراً بعد وائٹ ہاؤس نے صدر کے دیگر پروگرام بھی منسوخ کر دیے جس کے تحت اب وہ نیو جرسی میں واقع اپنے گالف ریزورٹ بھی نہیں جائیں گے۔

نیویارک کے ایک دورے سے واپسی پر صدر ٹرمپ نے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دینے سے بھی گریز کیا جو کہ ان کا معمول کا طریقہ کار نہیں ہے۔

دوسری جانب امریکی دفاعی اور انٹیلی جنس اداروں میں اس وقت شدید ہلچل مچ چکی ہے۔

‘سی بی ایس نیوز‘ نے اپنی رپورٹ میں گمنام ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام اور اہلکاروں نے ممکنہ حملوں کی تیاریوں اور ہائی الرٹ کے باعث اپنی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں اور انہیں وائٹ ہاؤس سے کسی بھی وقت حتمی حکم ملنے کا امکان ہے۔

تاہم، رپورٹ کے مطابق ابھی تک ایران پر نئے حملوں کا حتمی اور آخری فیصلہ نہیں کیا گیا کیونکہ پسِ پردہ سفارتی مذاکرات اب بھی جاری ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے اس حساس معاملے پر میڈیا کو باضابطہ جواب دینے سے گریز کیا ہے، لیکن وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے صورتحال کی سنگینی کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ صدر نے پہلے ہی یہ بات بالکل صاف کر دی ہے کہ اگر ایران معاہدہ کرنے میں ناکام رہا تو اسے کس قسم کے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مزاج میں پچھلے چند دنوں کے دوران واضح تبدیلی دیکھی گئی ہے اور وہ مذاکرات کی سست روی سے تنگ آ چکے ہیں۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایکسیوس‘ نے دو نامعلوم اعلیٰ حکام کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ گزشتہ چند دنوں سے ایران کے ساتھ جاری ان مذاکرات کے حوالے سے شدید مایوسی اور غصے کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پورے ہفتے کے دوران صدر کا جھکاؤ سفارت کاری اور بات چیت سے ہٹ کر اب ایران پر براہِ راست فوجی حملہ کرنے کے آرڈر دینے کی طرف ہو چکا ہے۔

اس تمام صورتحال میں اب دنیا کی نظریں پاکستانی ثالثی کی کامیابی پر لگی ہیں کیونکہ اگر یہ امن کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکا کسی بھی وقت ایران پر بمباری شروع کر سکتا ہے۔

Read Comments