'ایران اپنے جائز حقوق پر سمجھوتہ نہیں کرے گا': قالیباف کی فیلڈ مارشل سے ملاقات میں گفتگو

ایک سپاہی عام لوگوں کے مقابلے میں امن کی اہمیت کو زیادہ بہتر سمجھتا ہے: باقر قالیباف کی فیلڈ مارشل سے ملاقات میں گفتگو
شائع 23 مئ 2026 06:42pm

ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کے حوالے سے جاری سفارتی کوششوں کے دوران واضح کیا ہے کہ تہران اپنے قومی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

ایران کی مہر نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ہفتے کے روز تہران میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔ اس دوران ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی، جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔

باقر قالیباف نے کہا کہ ایران نے جس طرح جنگ کے میدان میں اپنا بھرپور دفاع کیا اسی طرح سفارتی محاذ پر بھی اپنے جائز حقوق کا تحفظ جاری رکھے گا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ملاقات کے دوران باقر قالیباف نے کہا کہ ’ایک فوجی عام لوگوں کے مقابلے میں امن کی اہمیت کو زیادہ بہتر سمجھتا ہے اور وہ کبھی بھی اپنے ملک کے وقار اور حقوق کو پامال ہونے کی اجازت نہیں دے سکتا‘۔

باقر قالیباف نے امریکا پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن پہلے بھی مذاکرات کے دوران ایران پر حملے کرچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی حالیہ جنگ بندی کے دوران بھی امریکا نے اپنا وعدہ توڑا اور ایران کی ناکہ بندی کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے جنگ بندی کے عرصے میں اپنی عسکری صلاحیتوں کو دوبارہ مضبوط کیا ہے اور اگر امریکا نے کوئی غلط قدم اٹھایا تو اسے پہلے سے زیادہ سخت ردعمل کا سامنا کرنا ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی قیادت اور عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام ایران کے بہتر مستقبل کے لیے دعاگو ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آپ اور میں دونوں اپنے اپنے ملک کے سپاہی ہیں اور سپاہی ہمیشہ کھری اور دو ٹوک گفتگو کرتا ہے‘۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ ’انہیں خوشی ہے کہ اس نازک مرحلے پر ایران کی قیادت بصیرت رکھنے والے اور ذہین افراد کے ہاتھ میں ہے‘۔

یہ ملاقات فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تہران کے دورے کا حصہ تھی، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے بھی ملاقات کی۔

دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹیلی وژن سے گفتگو میں کہا ہے کہ موجودہ سفارتی رابطوں کا مقصد جنگ بندی کا حصول ہے، جس میں لبنان میں جاری صورت حال، امریکی بحری ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز کی کشیدہ صورت حال شامل ہے۔

اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران کو پُرامن جوہری توانائی کے حصول کا حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ معاہدہ قریب ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات شدید نوعیت کے ہیں اور سفارت کاری وقت لیتی ہے۔

انہوں نے قطر کے وفد کے دورہ ایران کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ قطر کا وفد ایرانی وزیرِ خارجہ سے ملا ہے، تاہم اس پورے عمل میں باضابطہ ثالث صرف پاکستان ہی ہے۔

Read Comments