وائٹ ہاؤس کے باہر ایک بار پھر فائرنگ، نوجوان حملہ آور جوابی کارروائی میں ہلاک
امریکی صدر کے دفتر ’وائٹ ہاؤس‘ کے قریب ایک حفاظتی چوکی کے پاس فائرنگ کرنے والا ایک مشکوک شخص قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابی فائرنگ میں مارا گیا ہے۔
امریکی خفیہ ایجنسی ’سیکرٹ سروس‘ کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رہائش گاہ یا ان کے گردونواح میں فائرنگ کا یہ تیسرا بڑا واقعہ ہے۔
سیکرٹ سروس کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ یہ شخص امریکی وقت کے مطابق شام چھ بجے کے قریب وائٹ ہاؤس کے قریب موجود تھا، اس نے اچانک اپنے بیگ سے ہتھیار نکالا اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ وہاں تعینات افسران نے فوری جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں ملزم زخمی ہو گیا اور بعد میں اسپتال جا کر دم توڑ گیا۔
سیکیورٹی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی خبر رساں ایجنسی ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے 21 سالہ نوجوان کی شناخت ناسائر بیسٹ کے نام سے ہوئی ہے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق یہ نوجوان گزشتہ سال جولائی میں بھی وائٹ ہاؤس کی ایک دوسری چوکی میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار ہو چکا ہے، جہاں اس نے سیکیورٹی اہلکاروں کے رکنے کے حکم کو نظر انداز کر دیا تھا اور عجیب و غریب دعوے کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ خود کو گرفتار کروانا چاہتا ہے۔
اس واقعے کے بعد عدالت نے اسے وائٹ ہاؤس اور متعلقہ علاقوں سے دور رہنے کا حکم دیا تھا، لیکن اس نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی۔
ہفتے کے روز ہونے والی اس تازہ فائرنگ کے دوران وہاں موجود ایک عام شہری بھی گولی لگنے سے زخمی ہوا ہے، تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اسے ملزم کی گولی لگی یا پولیس کی جوابی فائرنگ کا حصہ تھی۔
اس واقعے کے وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے اندر ہی موجود تھے لیکن سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ وہ مکمل طور پر محفوظ رہے اور ان پر کوئی اثر نہیں پڑا۔
صدر ٹرمپ نے اس سے قبل نیو جرسی جانے کا اپنا پروگرام منسوخ کر کے وائٹ ہاؤس میں ہی رکنے کا فیصلہ کیا تھا۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف بی آئی‘ کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں صورتحال کی سنگینی کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ادارے کے اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ چکے ہیں اور جیسے ہی ہمیں مزید معلومات ملیں گی، ہم عوام کو اس سے فوری طور پر آگاہ کریں گے۔
وائٹ ہاؤس میں موجود صحافیوں نے بھی شام کے وقت گولیوں کی آوازیں سنیں جس کے بعد انہیں فوری طور پر پریس بریفنگ روم کے اندر پناہ لینے کی ہدایت کی گئی۔
امریکی ٹی وی ’اے بی سی نیوز‘ کی سینئر رپورٹر سلینا وانگ نے سوشل میڈیا پر ایک ڈرامائی ویڈیو شیئر کی جس میں وہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر صدر ٹرمپ کے بیانات کے بارے میں رپورٹ ریکارڈ کر رہی تھیں کہ اچانک گولیوں کی تھرتھراہٹ سنائی دی۔
سلینا وانگ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ گولیوں کی آوازیں درجنوں فائرنگ کی طرح لگ رہی تھیں جس کے بعد میں نے جان بچانے کے لیے فوری طور پر نیچے پناہ لی۔
اس ویڈیو کو انٹرنیٹ پر لاکھوں بار دیکھا جا چکا ہے اور اس نے وائٹ ہاؤس کے باہر کی خوفناک صورتحال کو بے نقاب کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ یہ علاقہ ماضی میں بھی ایسے واقعات کا مرکز رہا ہے جہاں گزشتہ سال نومبر میں ایک مسلح شخص نے نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر حملہ کیا تھا جس میں بیس سالہ خاتون اہلکار ہلاک ہو گئی تھیں۔
حالیہ واقعہ اپریل میں صدر پر ہونے والے مبینہ قاتلانہ حملے کی کوشش اور مئی کے آغاز میں واشنگٹن مونیومنٹ کے پاس ہونے والی فائرنگ کے سلسلے کی ہی ایک کڑی ہے۔