وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ کرنے والا نوجوان خود کو 'یسوع مسیح' سمجھتا تھا
امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں واقع وائٹ ہائوس کے باہر سیکرٹ سروس کے چیک پوائنٹ پر فائرنگ کے واقعے میں 21 سالہ نوجوان نسائر بیسٹ کو حملہ آور کے طور پر شناخت کر لیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حملہ آور نے فائرنگ سے قبل یا دوران خود کو ’’حضرت عیسیٰ ‘‘ کا اوتار قرار دیا اور ذہنی طور پر غیر مستحکم سمجھا جا رہا تھا۔ حکام کے مطابق وہ پہلے بھی وائٹ ہاؤس کے اطراف مشکوک سرگرمیوں اور غیر قانونی داخلے کی کوششوں کے باعث متعدد بار نشان دہی میں آ چکا تھا، جبکہ اسے پہلے بھی گرفتار کیا گیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق گزشتہ سال اسے دو مرتبہ حراست میں لیا گیا تھا، جن میں ٹریفک میں رکاوٹ ڈالنے اور ممنوعہ علاقے میں داخل ہونے جیسے الزامات شامل تھے۔ مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس کے خلاف وائٹ ہاؤس کے قریب جانے پر عدالتی پابندی بھی عائد تھی، جس کی مبینہ طور پر خلاف ورزی کی گئی۔
واقعے کے دن سیکرٹ سروس اہلکاروں نے اسے 17ویں اسٹریٹ نارتھ ویسٹ کے قریب مشکوک حالت میں دیکھا، جہاں اس نے اچانک فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں کم از کم ایک راہ گیر شدید زخمی ہوا۔
جوابی کارروائی میں سیکرٹ سروس اہلکاروں نے فائرنگ کر کے حملہ آور کو موقع پر ہی بے اثر کر دیا۔ بعد ازاں اسے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔
امریکی تحقیقاتی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور تمام تفصیلات مناسب وقت پر عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔