ٹرمپ اور پیوٹن کے دورۂ چین میں نمایاں فرق کیا تھا؟

ماہرین کہتے ہیں کہ بیجنگ اور ماسکو کا اتحاد واشنگٹن کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط اور پائیدار ہے۔
شائع 25 مئ 2026 02:40pm

چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی بیجنگ میں یکے بعد دیگرے میزبانی نے عالمی سفارت کاری میں چین کے متضاد تعلقات کو واضح کر دیا ہے۔ ایک ہی ہفتے کے دوران دونوں عالمی رہنماؤں کے بیجنگ کے دوروں کے پروٹوکول، وفود کی نوعیت اور ملاقاتوں کے ایجنڈے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں دوروں کے انداز، ترجیحات اور نتائج میں واضح فرق دیکھا گیا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کا بنیادی مرکز تجارت تھا، جس میں ان کے ہمراہ حکومتی حکام کے بجائے پائلٹ اور کاروباری وفد شامل تھا۔ دو روزہ ملاقاتوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہو سکا اور بات چیت صرف طیاروں کی خریداری اور زرعی برآمدات تک محدود رہی۔

اس کے برعکس، روسی صدر پیوٹن کے مختصر دورے میں ایک طویل مشترکہ اعلامیے سمیت توانائی اور بینکاری جیسے اہم شعبوں پر 20 سے زائد سرکاری دستاویزات پر دستخط کیے گئے۔ پیوٹن کے وفد میں روس کے 5 نائب وزرائے اعظم اور 8 کابینہ وزراء شامل تھے، جو دونوں ممالک کے گہرے روابط کی عکاسی کرتے ہیں۔

سفارتی پروٹوکول کے دوران بھی یہ تضاد واضح نظر آیا۔ پیوٹن کا استقبال وزیر خارجہ وانگ یی نے کیا، جو عام سفارتی پروٹوکول کے مطابق تھا۔ جبکہ ٹرمپ کو نائب صدر ہان ژینگ نے خوش آمدید کہا، جو نسبتاً اعلیٰ ریاستی سطح کی نمائندگی سمجھا جاتا ہے۔ دونوں رہنماؤں کو رسمی گارڈ آف آنر اور توپوں کی سلامی دی گئی، مگر ٹرمپ کے ساتھ مصافحہ زیادہ طویل اور گرمجوش دکھائی دیا۔

ٹرمپ کے دورے میں کسی بڑی تجارتی پیش رفت یا مشترکہ اعلامیے کا اعلان نہیں ہوا۔ بات چیت کے بعد دونوں ممالک نے الگ الگ بیانات جاری کیے جن میں محدود معاہدے شامل تھے، جیسے بوئنگ طیاروں کی فروخت اور زرعی مصنوعات پر پابندیوں میں نرمی۔ اس کے برعکس پیوٹن کے دورے کے بعد ایک تفصیلی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں جوہری سلامتی، تائیوان اور دیگر امور سمیت وسیع نکات شامل تھے، جبکہ درجنوں معاہدوں پر بھی دستخط ہوئے۔

امریکی وفد میں زیادہ تر اعلیٰ سرکاری اہلکاروں کے بجائے کاروباری شخصیات شامل تھیں، جس سے معاشی اور تجارتی فوکس ظاہر ہوا۔ روس کی طرف سے نائب وزرائے اعظم اور وزراء کی بڑی تعداد شریک تھی، جس نے توانائی، تیل اور بینکاری جیسے ریاستی شعبوں پر توجہ ظاہر کی۔

پیوٹن نے چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسیوں کی فوٹو نمائش دیکھی جس میں دونوں ممالک کی “دوستی” کو اجاگر کیا گیا جبکہ ٹرمپ کو بیجنگ کے تاریخی ”ٹیمپل آف ہیون“ لے جایا گیا، جو چین کی قدیم تہذیب اور ثقافتی طاقت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

دونوں رہنماؤں کے لیے پرتکلف ضیافتیں منعقد ہوئیں، جن میں پیکنگ ڈک سمیت روایتی چینی پکوان پیش کیے گئے۔ تاہم ٹرمپ کے عشائیے کو ٹیلی ویژن پر نشر کیا گیا جبکہ پیوٹن کے عشائیے کو براہِ راست نشر نہیں کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق چین نے دونوں دوروں میں مختلف ”ڈپلومیٹک اسکرپٹس“ استعمال کیے۔ روس کے ساتھ طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری کو اجاگر کیا گیا، جبکہ امریکا کے ساتھ تعلقات زیادہ محدود اور محتاط معاشی سطح پر نظر آئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بیجنگ نے دونوں صدور کی میزبانی سے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ ناگزیر تجارتی روابط اور معاشی توازن برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ روس کے ساتھ اپنی دیرینہ اور گہری سٹریٹجک پارٹنرشپ کو اولین ترجیح دیتا ہے۔ سیکیورٹی مبصرین کے مطابق، پیوٹن اور شی جن پنگ کے درمیان 2013 سے اب تک 40 سے زائد ملاقاتیں ہو چکی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ بیجنگ اور ماسکو کا اتحاد واشنگٹن کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط اور پائیدار ہے۔

Read Comments