بھوک برآمد، مہنگائی درآمد
پاکستان اب اربوں ڈالر ایسے غذائی اجناس درآمد کرنے پر خرچ کر رہا ہے جنہیں ایک فعال زرعی معیشت یا تو خود مؤثر انداز میں پیدا کر سکتی تھی یا کم از کم ذمہ دارانہ منصوبہ بندی کے ذریعے سنبھال سکتی تھی۔ یہی وہ خطرناک معاشی حقیقت ہے جو پاکستان کے بڑھتے ہوئے غذائی درآمدی بل کے پس منظر میں کارفرما ہے۔
مالی سال 2025-26 کے ابتدائی دس ماہ کے تازہ تجارتی اعداد و شمار پاکستان کی معیشت میں موجود ایک تشویشناک ساختی کمزوری کو بے نقاب کرتے ہیں۔ اس عرصے میں خوراک کی درآمدات کا بل 13.81 فیصد اضافے کے ساتھ 7.848 ارب ڈالر تک جا پہنچا، جبکہ خام غذائی مصنوعات کی برآمدات 32 فیصد سے زائد کمی کے بعد محض 4.19 ارب ڈالر رہ گئیں۔
خوراک کی درآمدات اور برآمدات کے درمیان بڑھتا ہوا یہ تفاوت محض زرعی شعبے کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے براہِ راست اثرات پاکستان کے مالیاتی خسارے، جاری کھاتوں کے استحکام، مہنگائی کی رفتار، زرِ مبادلہ کی شرح کے عدم تحفظ اور طویل المدتی معاشی خودمختاری پر مرتب ہو رہے ہیں۔
ایک ایسے وقت میں جب ملک اب بھی آئی ایم ایف کی نگرانی، بیرونی مالی معاونت کے توسیعی انتظامات اور مسلسل مالیاتی سختیوں پر انحصار کر رہا ہے، خوراک کی بڑھتی ہوئی درآمدات قیمتی زرِ مبادلہ کے ذخائر کے لیے ایک خطرناک رِساؤ ثابت ہو رہی ہیں۔
پالیسی سازی کی ناکامی کی سب سے واضح مثال چینی ہے۔
ملک پہلے “فاضل پیداوار” اور وافر ذخائر کے روایتی جواز کے تحت چینی کی برآمد کی اجازت دیتا ہے، لیکن چند ہی ماہ بعد یہی ملک اندرونی قلت اور بے قابو خوردہ قیمتوں پر قابو پانے کے لیے عالمی منڈی سے مہنگے داموں چینی درآمد کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
یہ بار بار دہرایا جانے والا چکر اب محض اتفاق نہیں رہا۔
یہ کمزور طرزِ حکمرانی، ضابطہ جاتی گرفت کے فقدان اور سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے گروہوں کی لابنگ سے جنم لینے والا ایک متوقع اور منظم رجحان بن چکا ہے۔
ہر کرشنگ سیزن کے آغاز پر شوگر مل مالکان اور شعبے کے نمائندے ریکارڈ پیداوار اور وافر ذخائر کی خوشخبری سناتے ہیں، جس کے نتیجے میں برآمدات کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ جیسے ہی برآمدات شروع ہوتی ہیں اور مقامی ذخائر سکڑنے لگتے ہیں، مارکیٹ میں قیمتیں تیزی سے اوپر جانا شروع ہو جاتی ہیں۔ عوامی دباؤ بڑھتا ہے، ذخیرہ اندوزی کے الزامات سامنے آتے ہیں، اور بالآخر حکومت قیمتی زرِ مبادلہ خرچ کر کے ہنگامی بنیادوں پر چینی درآمد کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
اس پالیسی کے معاشی نتائج نہایت سنگین ہیں۔
نجی شعبہ عالمی منڈی میں بہتر نرخوں سے برآمدی منافع سمیٹ لیتا ہے، جبکہ بعد میں مقامی مارکیٹ کو سنبھالنے کی مالی قیمت ریاست کو درآمدات کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔ عملی طور پر منافع نجی ہاتھوں میں چلا جاتا ہے جبکہ نقصان عوام کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مالی سال 26 کے جولائی تا اپریل کے دوران پاکستان نے تین لاکھ نو ہزار ٹن سے زائد چینی درآمد کی، جبکہ ایک سال قبل درآمدات نہ ہونے کے برابر تھیں۔ برآمدات اور رسد میں رکاوٹوں سے پیدا ہونے والی قلت کے باعث چینی کی درآمدی لاگت تقریباً 17 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی۔
اس پورے معاملے کو مزید غیر منطقی بنانے والی بات یہ ہے کہ چینی کوئی ناگزیر تزویراتی درآمد نہیں۔ پاکستان خطے کے بڑے گنا پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ مسئلہ پیداوار کی صلاحیت کا نہیں بلکہ شفاف ذخیرہ نگرانی، قابلِ اعتماد فصل تخمینوں، نظم و ضبط پر مبنی برآمدی پالیسی اور حکومتی فیصلوں کو شعبہ جاتی دباؤ سے محفوظ رکھنے کے فقدان کا ہے۔
چینی پاکستان کی زرعی معیشت کے ایک اور گہرے تضاد کی بھی علامت ہے۔
خوراک کے درآمدی بل میں دوسرا بڑا حصہ خوردنی تیل کا ہے۔
پاکستان ہر سال پام آئل اور سویا بین آئل کی درآمد پر اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے کیونکہ ملک میں تیل دار اجناس کی مقامی کاشت اب بھی انتہائی پسماندہ ہے۔ جائزہ مدت کے دوران صرف پام آئل کی درآمدات 3.3 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں، جو اسے پاکستان کی سب سے بڑی غذائی درآمدی مد بنا دیتی ہیں۔
زرعی اصلاحات اور درآمدی متبادل کی دہائیوں پر محیط بحث کے باوجود پاکستان آج تک تیل دار فصلوں کی ترقی کے لیے کوئی سنجیدہ حکمتِ عملی تشکیل نہیں دے سکا۔ سورج مکھی، کینولا اور سویا بین جیسی فصلوں کو کبھی بھی وہ پالیسی ترجیح نہیں ملی جو سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے شعبوں کو حاصل رہی۔
نتیجتاً، ملک اب بھی عالمی خوردنی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور روپے کی قدر میں کمی کے اثرات کے سامنے بے بس دکھائی دیتا ہے۔
چینی اور خوردنی تیل کے علاوہ بھی متعدد غذائی درآمدات پاکستان کے بیرونی کھاتوں پر مسلسل دباؤ ڈال رہی ہیں۔
دالیں بدستور بڑی درآمدی غذائی اشیا میں شامل ہیں کیونکہ مقامی پیداوار مسلسل ملکی طلب سے کم رہتی ہے۔ اسی طرح چائے کی درآمدات بھی کثیر زرِ مبادلہ ہڑپ کر رہی ہیں، حالانکہ غیر ضروری درآمدات میں کمی کے حکومتی دعوے بارہا دہرائے جاتے رہے ہیں۔
سویا بین مصنوعات، خشک میوہ جات، دودھ سے بنی اشیا، اور بعض اوقات گندم کی درآمدات بھی، مقامی فصلوں کی کارکردگی اور موسمی قلت کے مطابق، اس دباؤ میں مزید اضافہ کرتی رہتی ہیں۔
مجموعی منظرنامہ نہایت تشویشناک ہے۔
وسیع زرعی رقبے، دنیا کے بڑے نہری نظاموں میں سے ایک، اور زراعت سے وابستہ بھاری افرادی قوت رکھنے والا ملک بتدریج خوراک کے معاملے میں درآمدات پر زیادہ انحصار کرتا جا رہا ہے۔
دوسری جانب غذائی برآمدات کی کارکردگی بھی کمزور پڑتی جا رہی ہے۔
چاول، جو روایتی طور پر زرِ مبادلہ کمانے کا ایک اہم ذریعہ رہے ہیں، اب واضح دباؤ کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ اپریل میں باسمتی چاول کی برآمدات مقدار اور مالیت دونوں لحاظ سے نمایاں اضافے کے ساتھ بہتر رہیں، تاہم غیر باسمتی چاول کی برآمدات میں شدید کمی ریکارڈ کی گئی۔
یہ کمی اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ غیر باسمتی چاول برآمدی حجم اور عالمی منڈی میں رسائی کے اعتبار سے کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ گراوٹ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان کو علاقائی مسابقت، قیمتوں کے عدم توازن، غیر مستقل معیار، بڑھتی پیداواری لاگت، پانی کی قلت اور عالمی منڈی میں کم ہوتی مسابقت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
اگر غذائی درآمدات میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا اور زرعی برآمدات جمود یا تنزلی کا شکار رہیں تو آنے والے برسوں میں پاکستان کو بیرونی مالیاتی دباؤ کا مزید سامنا کرنا پڑے گا۔
اس کے مالیاتی اثرات بھی کم سنگین نہیں۔ بڑھتی درآمدات جاری کھاتوں کے خسارے پر دباؤ بڑھاتی ہیں، جو بالآخر مزید قرض گیری پر مجبور کرتا ہے۔
یوں غذائی عدم تحفظ بتدریج مالیاتی عدم تحفظ میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔
لہٰذا پاکستان کو وقتی کریک ڈاؤنز یا ردِعمل پر مبنی درآمدی فیصلوں سے بڑھ کر جامع زرعی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
چینی اور گندم جیسی بنیادی اجناس کی برآمدی اجازت کو صنعتکاروں کے دعووں کے بجائے آزادانہ اور قابلِ تصدیق ذخیرہ آڈٹس سے مشروط کیا جانا چاہیے۔
اسی طرح زرعی مراعات کا رخ ان تزویراتی فصلوں کی جانب موڑا جانا ضروری ہے جو درآمدی انحصار کم کر سکیں، خصوصاً تیل دار اجناس اور دالیں۔
پاکستان کو فوری طور پر ذخیرہ گاہوں کے بنیادی ڈھانچے، جدید بیج ٹیکنالوجی، زرعی مشینی نظام، پانی کے مؤثر استعمال، فصلوں کی پیش گوئی کے نظام اور سپلائی چین مینجمنٹ میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ زرعی پالیسی سازی کو مفاداتی گروہوں کے اثر و رسوخ سے محفوظ بنانا ہوگا۔
کوئی بھی معیشت اس وقت تک پائیدار مالیاتی استحکام حاصل نہیں کر سکتی جب تک قومی وسائل کی قیمت پر اجناس کے چکر کو قیاس آرائی پر مبنی مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا رہے۔
پاکستان کا بڑھتا ہوا غذائی درآمدی بل محض تجارتی عدم توازن کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک واضح انتباہ ہے کہ حکمرانی، منصوبہ بندی اور معاشی نظم و نسق کی کمزوریاں اب براہِ راست ملک کی مالیاتی سکت اور غذائی تحفظ کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
ملک کسی عارضی مارکیٹ بگاڑ کا سامنا نہیں کر رہا بلکہ معاشی ساکھ کے ایک گہرے بحران سے دوچار ہے۔
نوٹ: یہ تحریر 23 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
