قتلِ عام کی یاد تازہ کرنے والی متنازع اشتہاری مہم پر جنوبی کوریا میں اسٹاربکس سربراہ کی معذرت
جنوبی کوریا کے معروف ریٹیل گروپ شنسیگی کے چیئرمین چونگ یونگ-جن نے اسٹار بکس کی ایک متنازعہ مارکیٹنگ مہم پر بڑھتے ہوئے عوامی ردعمل کے بعد دو ہفتوں کے دوران دوسری بار عوام سے معافی مانگ لی ہے۔ اس مہم کو 1980 کی جمہوریت نواز تحریک کے متاثرین کی توہین کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے بعد کمپنی کو شدید تنقید اور بائیکاٹ کی اپیلوں کا سامنا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق شنسیگی گروپ کے چیئرمین چونگ یونگ-جن، جو کوریا میں اسٹار بکس کے 67.5 فیصد حصص کے مالک ہیں، نے ٹیلی ویژن پر خطاب کے دوران تین بار جھک کر معذرت کی اور 1980 کی گوانگجو جمہوری تحریک کے متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے افسوس کا اظہار کیا۔
تنازع اس وقت شروع ہوا جب اسٹار بکس نے ایک بڑے سائز کے ٹمبلر (جسے کمپنی “ٹینک” کہتی ہے) کی تشہیر کے لیے 18 مئی کو “ٹینک ڈے” کے طور پر منانے کی مہم چلائی۔ یہ تاریخ جنوبی کوریا کے شہر گوانگجو میں ہونے والی جمہوریت نواز بغاوت کی برسی کے طور پر منائی جاتی ہے، جسے اس وقت کی فوجی حکومت نے ٹینکوں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سختی سے کچل دیا تھا، اور اس دوران سینکڑوں افراد ہلاک و زخمی ہوئے تھے۔
اس مہم میں غصہ اس وقت مزید بڑھ گیا جب اس نے Thwack it on the table! کا نعرہ استعمال کیا تھا۔ بہت سے لوگوں نے اسے 1987 کے ایک بدنام زمانہ پولیس بیان سے جوڑا، جس میں ایک طالب علم کارکن پارک جونگ-چول کی تشدد سے موت کو چھپانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس وقت پولیس نے کہا تھا کہ تفتیش کے دوران ڈیسک پر زور سے مارا گیا (thwack) اور اسی دوران پارک کی موت ہو گئی۔
اس مہم پر شدید عوامی غم و غصہ سامنے آنے کے بعد چند گھنٹوں میں شنسیگی گروپ نے یہ کیمپین واپس لے لی اور اسٹار بکس کوریا کے چیف ایگزیکٹو کو برطرف کر دیا گیا۔ پولیس نے بھی گوانگجو میں متاثرین کے اہل خانہ کی شکایات پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
چونگ یونگ-جن نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس بات کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہیں کہ اس مہم کے باعث بہت سے افراد کو شدید تکلیف اور غصہ پہنچا ہے۔ انہوں نے اسٹار بکس کے ملازمین سے اپیل کی کہ عوامی غصہ ان پر نہ نکالا جائے کیونکہ ذمہ داری انتظامیہ کی ہے۔ تاحال کسی بڑے ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔
اس سے قبل انہوں نے 19 مئی کو بھی معافی مانگی تھی، جس میں انہوں نے اس مہم کو متاثرین اور عوام کے لیے “گہرے دکھ” کا باعث قرار دیا تھا۔
شنسیگی گروپ کے ایک سینئر ایگزیکٹو کے مطابق کمپنی کو تاحال اس بات کا کوئی حتمی ثبوت نہیں ملا کہ مارکیٹنگ ٹیم کا مقصد جمہوری تحریک کا مذاق اڑانا تھا، تاہم داخلی تحقیقات جاری ہیں۔ بعض ملازمین نے تفتیش کے دوران اپنے اسمارٹ فونز جمع کرانے سے انکار بھی کیا ہے۔
ادھر اس تنازع کے بعد بائیکاٹ کی اپیلیں بھی سامنے آئی ہیں، جنہیں حکومتی سطح پر بھی تقویت ملی ہے۔ جنوبی کوریا کے وزیر داخلہ سمیت بعض حکام نے اعلان کیا ہے کہ سرکاری تقریبات میں اسٹار بکس مصنوعات کا استعمال بند کیا جا رہا ہے، جبکہ مہم کو تاریخی جذبات کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔