جب تک امریکی حملے جاری رہیں گے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا: پاسدارانِ انقلاب
ایران کے خاتم الانبیاء سنٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا ہے کہ جب تک امریکی ہمارے خطے میں اپنی عسکری مہم جوئی جاری رکھیں گے، اس وقت تک کوئی معاہدہ ممکن نہیں ہوگا۔
ابراہیم ذوالفقاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ جاری بیان میں کہا کہ امریکی حکومت نے بارہا یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ صرف طاقت کی زبان ہی سمجھتی ہے۔
اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے لکھا کہ 200 ڈالرز کے تیل کو ’ہیلو‘ کہہ دیں۔
اُدھر ایران کی مسلح افواج کے ایک سینئر ترجمان ابوالفضل شیکرچی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی نئی جارحیت کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور وسیع تر ہوگا جو خطے سے باہر تک پھیل سکتا ہے۔
ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق شیکرچی نے کہا کہ اگر دوبارہ جنگ کی صورت پیدا ہوئی تو ایران کے حملے خطے کی سرحدوں سے باہر تک پہنچیں گے اور یہ گزشتہ ادوار کے مقابلے میں زیادہ شدید اور زیادہ پرتشدد ہوں گے۔
خیال رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی سر اٹھانے لگی ہے۔ اس سے قبل امریکی سینٹرل کمان(سینٹ کام) کا بیان سامنے آیا تھا کہ جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ جنوبی ایران میں فضائی حملے کیے گئے ہیں جس میں ڈرون لانچنگ تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
سینٹ کام کا کہنا تھا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے جنوبی ایران میں فضائی حملے کیے، امریکی فورسز نے ایران کے ڈرون لانچنگ تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ بارودی سرنگین بچھانے والی ایرانی کشتیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
سینٹ کام کا کہنا تھا کہ امریکی فوج جاری جنگ بندی کے دوران تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی افواج کا دفاع کرے گی۔
ایرانی میڈیا کا کہنا تھا کہ بندر عباس میں صورتحال کنٹرول میں ہے اور تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔