قربانی کے فوراً بعد گوشت پکانا کیوں خطرناک ہے؟
عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے فوراً بعد عموماً ہمارے گھروں میں تازہ گوشت کے پکوان تیار کرنے کا رواج ہے۔ تاہم، یہ تازہ گوشت سائنسی اور طبی اعتبار سے ہماری صحت اور ہاضمے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے پیچھے ایک اہم حیاتیاتی حقیقت چھپی ہے۔
جانور کے ذبح ہونے کے بعد اس کے جسم کے پٹھوں اور جوڑوں میں ایک قدرتی اور عارضی سختی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کی سائنسی وجہ یہ ہے کہ ذبح کے بعد پٹھوں میں توانائی کے مالیکیول یعنی اے ٹی پی (ایڈینوسین ٹرائی فاسفیٹ) ختم ہو جاتے ہیں، جو پٹھوں کو نرم اور لچکدار رکھنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔
اس توانائی کی کمی کی وجہ سے مسلز فائبرز آپس میں جڑ کر لاک ہو جاتے ہیں، جس سے پورا جسم سخت ہونے لگتا ہے۔ سائنسی اصطلاح میں اس عمل کو ”ریگر مورٹس“ کہا جاتا ہے۔ یہ عمل ذبح کے چند گھنٹوں بعد شروع ہو کر 12 سے 24 گھنٹے تک برقرار رہتا ہے۔
انسانی معدے کے اینزائمز کے لیے ایسے سخت گوشت کو توڑنا اور ہضم کرنا ایک کٹھن مرحلہ بن جاتا ہے، جس کی وجہ سے ہاضمے کا نظام سست پڑ جاتا ہے۔ ایسے گوشت کے استعمال سے پیٹ میں شدید درد، گیس، اپھارہ اور بدہضمی جیسی شکایات پیدا ہو جاتی ہیں۔ خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور کمزور معدے والے افراد کے لیے یہ زیادہ نقصان دہ ہے۔
دوسری طرف، جانور کے ذبح ہونے کے بعد گوشت کے اندر کچھ قدرتی اینزائمز خود بخود کام شروع کرتے ہیں، جو گوشت کے سخت پروٹین کو آہستہ آہستہ توڑ کر اسے نرم اور لذیذ بناتے ہیں۔ سائنس میں اس عمل کو گوشت کا تیار ہونا یا ’کنڈیشننگ‘ کہتے ہیں۔ اگر گوشت کو فوراً پکا لیا جائے، تو ان اینزائمز کو اپنا کام کرنے کا وقت ہی نہیں ملتا، جس سے گوشت بے ذائقہ اور سخت رہ جاتا ہے۔ اکثر لوگ قربانی کے گوشت کے حوالے سے ذائقے میں جس تبدیلی کا ذکر کرتے ہیں، اس کی بنیادی وجہ یہی ہے۔
ایک اور اہم پہلو جراثیم یعنی بیکٹیریا کی نشوونما ہے۔ عید کے دنوں میں اگر گرم موسم ہو اور گوشت کو جلدی ٹھنڈا نہ کیا جائے، تو ماحول میں موجود جراثیم اس پر تیزی سے حملہ کرتے ہیں۔ اگرچہ گوشت کو اونچے درجہ حرارت پر اچھی طرح پکانے سے جراثیم مر جاتے ہیں، لیکن اگر گوشت پہلے ہی آلودہ ہو چکا ہو، تو پیٹ خراب ہونے کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔
طبی اور سائنسی ماہرین کے مطابق، قربانی کے گوشت کو صحت مند طریقے سے استعمال کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے فوراً پکانے کے بجائے کم از کم 12 سے 24 گھنٹے تک فریج یا ٹھنڈے ماحول میں رکھا جائے۔ اس دوران گوشت کی قدرتی سختی ختم ہو جاتی ہے اور وہ نرم اور قابلِ ہضم ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر بڑے جانور جیسے گائے یا اونٹ کے گوشت کے لیے یہ وقفہ انتہائی ضروری ہے۔
اگر گھر کے رواج یا ضرورت کے تحت فوری پکانا ہی پڑے، تو اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ گوشت کو بڑے پارچوں کے بجائے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹا جائے، اور اسے ہلکی آنچ پر یا پریشر ککرمیں زیادہ دیر تک پکایا جائے تاکہ گوشت اچھی طرح گل جائے اور تمام بیکٹیریا بھی ختم ہو جائیں۔ تاہم، صحت اور ذائقے کے اصولوں کے مطابق بہترین صورتِ حال یہی ہے کہ گوشت کو مناسب وقت تک ٹھنڈا کرنے کے بعد ہی پکایا جائے۔