امریکا کے نئے حملے سیز فائر کی خلاف ورزی ہیں: ایران
ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کو ختم کرنے کی کوششیں ایک بار پھر خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ ایران نے امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریبی علاقوں میں منگل کے روز بمباری کی ہے، جس سے امن کی کوششیں پیچیدہ ہو سکتی ہیں۔ دوسری طرف، تہران کی جانب سے لبنان میں اسرائیلی حملے روکنے کے مطالبے کے باوجود، اسرائیل نے منگل کے روز لبنان پر 120 سے زائد فضائی حملے کیے، جسے حالیہ ہفتوں کی شدید ترین بمباری کہا جا رہا ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوبی صوبے ہرمزگان میں، جہاں منگل کی صبح دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، امریکی حملے گزشتہ سات ہفتوں سے جاری عارضی جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
تاہم، امریکا نے ان حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں دفاعی نوعیت کی تھیں جن میں ان میزائل مراکز اور کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا جو سمندر میں مائنز یعنی بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھارت کے دورے کے دوران اپنے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو ہر حال میں کھلا رکھنا ہوگا، چاہے اس کے لیے کوئی بھی طریقہ اپنایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کو روکنے کے لیے ابتدائی معاہدے پر پہنچنے میں ابھی چند دن لگ سکتے ہیں۔
اس جنگ کا آغاز رواں سال 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں سے ہوا تھا، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور ایندھن، کھاد اور خوراک کی قیمتیں ریکارڈ حد تک بڑھ گئی ہیں۔
دنیا کے کل تیل اور گیس کے کاروبار کا پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، لیکن جنگ کے بعد سے یہاں تجارتی جہازوں کی آمد و رفت برائے نام رہ گئی ہے۔
منگل کو ہونے والے نئے حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت ساڑھے تین فیصد اضافے کے ساتھ 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ ان امریکی حملوں کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے خلیج کے علاقے میں ایرانی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے ایک امریکی ڈرون کو مار گرایا جبکہ ایک اور ڈرون اور جنگی طیارے کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔
اسی دوران، سالانہ حج کے موقع پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر ایک سخت بیان جاری کیا۔
آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ اب سے ’امریکا مردہ باد‘ اور ’اسرائیل مردہ باد‘ کے نعرے پوری مسلم امت اور دنیا کے تمام مظلوم لوگوں کے نعرے ہوں گے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں ایران کے انہی نعروں کو بنیاد بنا کر فوجی کارروائی کا جواز پیش کرتے رہے ہیں۔
دوسری جانب، پسِ پردہ ہونے والے مذاکرات میں کچھ امور پر پیش رفت بھی سامنے آئی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، ایران کے اہم مذاکرات کار محمد باقر قالیباف قطر کا دورہ کرنے کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ہیں، جہاں انہوں نے ابتدائی معاہدے کے تحت امریکا کی طرف سے منجمد کیے گئے 24 ارب ڈالر کے ایرانی فنڈز کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔
ایرانی نیوز ایجنسی ’فارس‘ نے بتایا ہے کہ یہ فنڈز اس وقت معاہدے کی راہ میں آخری بڑی رکاوٹ ہیں، جبکہ دوسری نیوز ایجنسی ’ایسنا‘ نے قطر مذاکرات کو مجموعی طور پر مثبت قرار دیا ہے۔
ایران کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ اس کی سمندری ناکہ بندی ختم کی جائے اور ملکی خودمختاری کی ضمانت دی جائے، جبکہ وہ لبنان میں بھی جنگ بندی چاہتا ہے جہاں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی جاری ہے۔
اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ اسرائیل لبنان میں اپنی کارروائیاں مزید تیز کر رہا ہے اور اس کی بڑی افواج زمین پر موجود ہیں۔ لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق ان تازہ اسرائیلی حملوں میں 31 افراد جاں بحق اور 40 زخمی ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، اگر یہ ابتدائی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو تمام محاذوں پر جنگ فوری طور پر رک جائے گی اور 30 دنوں کے اندر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال ہو جائے گی۔
اس کے بعد اگلے مرحلے میں ایران کے جوہری پروگرام جیسے پیچیدہ مسائل پر بات ہوگی۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس جنگ کا اصل مقصد ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کے ذریعے ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنا ہے، جبکہ ایران ہمیشہ اس بات کی تردید کرتا آیا ہے۔
صدر ٹرمپ اس بحران کو ابراہم اکارڈ کی توسیع کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں تاکہ سعودی عرب اور پاکستان جیسے ممالک اسرائیل کو تسلیم کر لیں، تاہم، پاکستان نے ابراہم اکارڈ میں شامل ہونے سے صاف انکار کردیا ہے، جبکہ سعودی عرب کا مؤقف ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کے واضح راستے کے بغیر ایسے کسی معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا۔
یاد رہے کہ اس وسیع تر تنازع میں اب تک ہزاروں افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جن کی بڑی تعداد لبنان اور ایران سے ہے۔