نئی ہالی ووڈ فلم کا ہولناک سیٹ، کاسٹ نے شوٹنگ چھوڑ کر بھاگنے کی فرمائش کر دی

فلم دیکھنے والوں کو ایک پراسرار اور خوفناک دنیا میں لے جاتی ہے۔
شائع 30 مئ 2026 11:31am

ہالی وڈ کی نئی فلم ”بیک رومز“ سینما گھروں میں تہلکہ مچا رہی ہے۔ اس فلم کی کہانی ہمیں ایک ایسے نامعلوم اور پراسرار سفر پر لے جاتی ہے جہاں خالی اور ویران جگہیں انسان کے لیے سب سے بڑا خوف بن جاتی ہیں۔ اس فلم نے یہ ثابت کیا ہے کہ ڈرانے کے لیے کسی بھوت یا چڑیل کی ضرورت نہیں، بلکہ ایک عام سی خالی عمارت بھی سب سے بڑی ولن بن سکتی ہے۔

کہانی کلارک نامی ایک شخص کے گرد گھومتی ہے جو پہلے ماہر تعمیرات ہوتا ہے اور اب فرنیچر کے ایک اسٹور کا مالک ہے۔ ایک دن اسے اپنے شو روم کے تہہ خانے میں ایک پراسرار اور نہ ختم ہونے والے کمروں کی دنیا کا راستہ مل جاتا ہے۔

جب وہ یہ بات اپنی ماہر نفسیات ڈاکٹر میری کلائن کو بتاتا ہے، تو اس کی زبانی ایک سادہ مگر خوفناک جملہ ادا ہوتا ہے کہ مجھے ایک جگہ ملی ہے۔

یہ عام سا جملہ فلم میں یہ ایک خوفناک تعمیراتی دہشت کا خلاصہ بن جاتا ہے۔ یہ فلم ہمیں دفاتر، بند پڑے شاپنگ مالز اور ایسی عجیب و غریب جگہوں پر لے جاتی ہے جو انسان کو ایک عجیب سی الجھن میں ڈال دیتی ہیں۔

اس سنسنی خیز فلم کے ڈائریکٹر کین پارسنز ہیں، جن کی عمر صرف بیس سال ہے۔ انہوں نے پہلے انٹرنیٹ پر تھری ڈی سافٹ ویئر کی مدد سے کچھ مختصر ویڈیوز بنائی تھیں جنہیں لوگوں نے بہت پسند کیا۔ اب انہی ویڈیوز کو ایک مکمل فلم کی شکل دے دی گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جدید دنیا میں بننے والی بے روح اور یکساں طرز کی عمارتیں انسان میں ایک عجیب قسم کی بے چینی پیدا کرتی ہیں اور یہی احساس فلم کی بنیاد بنا۔

”بیک رومز“ میں دکھائی جانے والی جگہیں ایسی ہیں جو نہ مکمل طور پر آباد محسوس ہوتی ہیں اور نہ ہی ویران۔ لمبی راہداریوں، زرد روشنیوں، جھوٹی چھتوں اور خالی کمروں سے بنی یہ دنیا ناظرین کو مسلسل یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ اگلے دروازے کے پیچھے کیا موجود ہے۔

فلم کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں خوف پیدا کرنے کے لیے روایتی ہارر عناصر پر کم انحصار کیا گیا ہے۔ اس کے بجائے نامعلوم طاقتوں، پراسرار ماحول اور مسلسل بڑھتی ہوئی الجھن کو استعمال کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناظرین خود کو مرکزی کردار کے ساتھ اس انجانی دنیا میں گم ہوتا محسوس کرتے ہیں۔

ماہرین ایسی ویران اور عجیب جگہوں کو ایک الگ ہی نام دیتے ہیں۔ مشہور فلسفی مارک اویج کے مطابق، یہ ایک ایسی جگہ ہے جس کی نہ کوئی تاریخ ہوتی ہے، نہ پہچان اور نہ ہی کوئی تعلق۔

اسی طرح ماہر تعمیرات ریم کولہاس اسے کباڑ کی جگہ کہتے ہیں۔ یہ وہ جگہیں ہیں جو دنیا کی گہما گہمی سے کٹ چکی ہوتی ہیں اور وہاں انسانوں کا کوئی نام و نشان نہیں ہوتا۔

فلم میں دکھایا گیا ہے کہ ایک جیسے کمرے اور ان میں جلتی پیلی روشنیاں کیسے انسان کا دماغ الجھا دیتی ہیں۔

فلم کے ڈائریکٹر کین پارسنز کہتے ہیں کہ ہم صدیوں سے صنعت کاری کے ایک ایسے چکر میں پھنس رہے ہیں جہاں ہر چیز ایک جیسی لگنے لگی ہے، اور ہم اس ایک جیسے ماحول میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ اس یکسانیت کو دکھانے کے لیے دفاتر میں استعمال ہونے والی عام چھتوں (ڈراپ سیلنگ) سے بہتر شاید کوئی اور علامت نہیں ہو سکتی۔

فلم میں کلارک اور اس کی ڈاکٹر ان کمروں کی بھول بھلیوں میں پھنس جاتے ہیں اور مزید گہرائی میں چلے جاتے ہیں۔ فلم کا سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ کوئی نہیں جانتا ان کمروں کو کون چلا رہا ہے، دروازوں کے پیچھے کیا ہے، اور یہ سب کس قانون کے تحت چل رہا ہے۔ کلارک ان کمروں کا نقشہ بنانے کی کوشش کرتا ہے لیکن ناکام رہتا ہے۔

اس روزمرہ کی بوریت اور ڈر پر بات کرتے ہوئے ماہر تعمیرات دیمجان جووانووک کہتے ہیں کہ یہ اس احساس کا نام ہے جو فائلوں اور کاغذی کارروائیوں سے بنی دنیا میں رہنے سے پیدا ہوتا ہے، نہ کہ کہانیوں سے۔

آخر میں، ماہر تعمیرات یوہانی پالاسما کی بات اس فلم پر بالکل سچ ثابت ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فن تعمیر کے تخلیقی مراحل بنیادی طور پر انسان کے دماغ میں بننے والی جگہیں ہیں۔ عمارتوں کا ڈیزائن بھی ہمارے تصورات کو ایک اور ہی حقیقت کی طرف لے جاتا ہے۔

بیک رومز اسکرین پر ایک ایسی ہی عمارت کھڑی کرتی ہے جو دیکھنے والوں کو ایک پراسرار اور خوفناک دنیا میں لے جاتی ہے۔

Read Comments