کویت میں امریکی فوجی اڈے پر ایران کا میزائل حملہ، کئی امریکی زخمی، دو قیمتی ڈرون تباہ: بلومبرگ کا دعویٰ
امریکی نشریاتی ادارے ’بلومبرگ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ کویت میں واقع ایک فوجی اڈے پر ایران کے بیلسٹک میزائل حملے کے نتیجے میں چند امریکی اہلکار معمولی زخمی ہوئے ہیں جبکہ وہاں موجود دو قیمتی ڈرون طیاروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
یہ حملہ ایک ایسے حساس وقت پر ہوا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خطے میں عارضی جنگ بندی میں توسیع کے لیے ایک ممکنہ معاہدے پر غور کر رہے ہیں۔
ایک عینی شاہد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بلومبرگ کو حملے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ کویت کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی طرف سے داغے گئے فاتح-110 میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا تھا، لیکن اس تباہ شدہ میزائل کا ملبہ علی السالم ایئر بیس پر جا گرا جس سے وہاں نقصان ہوا۔
رپورٹ کے مطابق، ملبہ گرنے کے اس واقعے میں فوجی اڈے پر موجود تقریباً پانچ افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں جن میں امریکی فوجی اہلکار اور نجی کانٹریکٹرز شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ایئر بیس پر کھڑے امریکا کے دو جدید ایم کیو-9 ریپر اسٹرائیک ڈرون طیاروں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جن میں سے ایک ڈرون مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے جبکہ دوسرے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
واضح رہے کہ ان میں سے ایک ڈرون طیارے کی مالیت لگ بھگ تین کروڑ امریکی ڈالر ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذو الفقاری نے بھی ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ کویت میں ایک امریکی فوجی تنصیب پر ایران کے میزائل حملے میں پانچ امریکی اہلکار زخمی ہوئے اور ایک ایم کیو-9 ریپر ڈرون تباہ ہوا ہے۔
ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ یہ حملہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد کیا گیا۔
بلومبرگ کے مطابق، اس واقعے کے فوری بعد جب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس پر فوری تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
یہ میزائل حملہ ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان اپریل سے نافذ العمل عارضی جنگ بندی کو بڑھانے کے لیے سفارتی کوششیں کی جا رہی ہیں، حالانکہ اس جنگ بندی کے دوران بھی دونوں اطراف سے ایک دوسرے پر حملے دیکھنے میں آئے ہیں۔