آبنائے ہرمز کشیدگی میں اضافہ، امریکی فورسز کا ایران جانے والے بحری جہاز پر میزائل حملہ
خلیج عمان اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی۔ امریکی فوج نے ایک تجارتی بحری جہاز کو میزائل حملے کا نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق کارروائی اس وقت کی گئی جب مذکورہ جہاز نے ایران کے خلاف نافذ کردہ بحری محاصرے کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی۔
سینٹ کام کے بیان کے مطابق گمبیا کے پرچم تلے چلنے والا تجارتی جہاز ایک ایرانی بندرگاہ کی جانب جا رہا تھا۔
امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ جہاز کو متعدد بار متنبہ کیا گیا، تاہم اس نے اپنا راستہ تبدیل نہیں کیا، جس کے بعد اسے میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
حملے کے نتیجے میں جہاز ناکارہ ہو گیا اور ایران کی جانب اپنا سفر جاری نہ رکھ سکا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف نافذ کردہ بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے اب تک پانچ تجارتی جہازوں کو غیرفعال کیا جا چکا ہے، جبکہ 116 دیگر جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے تاکہ وہ ایرانی بندرگاہوں تک نہ پہنچ سکیں۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ اور اس کے اتحادی خطے میں بحری سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور پابندیوں یا محاصرے کی خلاف ورزی کی کسی بھی کوشش کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
دوسری جانب اس واقعے کے بعد خطے میں سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، جہاں کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی کے اثرات عالمی منڈیوں اور بحری نقل و حمل پر مرتب ہو سکتے ہیں۔