بھارتی اداکارہ جیکولین فرنینڈس کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں فردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ
بھارتی عدالت نے 200 کروڑ بھارتی روپے کے مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں مشہور بولی ووڈ اداکارہ جیکولین فرنینڈس سمیت 17افراد پر فردِ جرم عائد کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی کی عدالت نے ریمارکس دیے ہیں کہ ان تمام لوگوں کے خلاف باقاعدہ مقدمہ چلانے کے لیے کافی ثبوت موجود ہیں۔ اب اس کیس کا باقاعدہ ٹرائل شروع ہونے والا ہے اور تمام ملزمان کو 3 جون کو فرد جرم کی باقاعدہ کاروائی کے لیےعدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت کے حکم میں جن افراد کے نام شامل ہیں ان میں سکیش چندر شیکھر، ان کی اہلیہ لینا ماریا پال، پنکی ایرانی، دیپک رمنانی اور اداکارہ جیکولین فرنینڈس سمیت 17 ملزمان شامل ہیں۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے مطابق سکیش چندر شیکھر نے مبینہ طور پر جعل سازی، بھتہ خوری اور سرکاری شخصیات کا روپ دھار کر 200 کروڑ بھارتی روپے سے زائد رقم حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے ان پیسوں سے لگژری گاڑیاں، جائیدادیں اور مہنگے تحائف خریدے۔
ای ڈی کا الزام ہے کہ جیکولین فرنینڈس سکیش چندر شیکھر کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھیں اور انہوں نےسکیش چندر شیکھر سے کروڑوں روپے مالیت کے قیمتی تحائف اور مالی فوائد حاصل کیے۔
تفتیشی ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ جیکولین کو اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ پیسہ اور تحائف غیر قانونی کمائی سے آئے ہیں۔
دوسری طرف، جیکولین فرنینڈس کا کہنا ہے کہ وہ اس سارے فراڈ سے بالکل بے خبر تھیں اور انہیں نہیں معلوم تھا کہ سکیش کون ہے اور یہ پیسہ کہاں سے آیا ہے۔
انہوں نے اس کیس میں وعدہ معاف گواہ بننے کی پیشکش بھی کی تھی، لیکن ای ڈی نے یہ کہہ کر مخالفت کی کہ جیکولین سب کچھ جانتی تھیں۔ اس مخالفت کے بعد جیکولین نے اپنی درخواست واپس لے لی تھی۔
رپورٹس کے مطابق ای ڈی نے کیس کے دوران موبائل فونز، واٹس ایپ چیٹس، ٹیلی گرام پیغامات، بینک ٹرانزیکشنز، کال ریکارڈز اور دیگر ڈیجیٹل شواہد بھی عدالت میں پیش کیے ہیں۔
عدالت کے حالیہ فیصلے کے بعد اب اس ہائی پروفائل کیس کی باقاعدہ سماعت اور ٹرائل کا آغاز متوقع ہے، جس پر بھارتی میڈیا اور فلمی حلقوں کی گہری نظر ہے۔