بھارتی آرمی چیف کا ’سندور 2.0‘ کے حوالے سے بیان، اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش
معرکہ حق میں پاکستان کے ہاتھوں ہزیمت اور اپنے سیاسی عزائم میں ناکامی کے بعد بھارت نے پاکستان مخالف بیانیوں کا سہارا لینا شروع کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کے بڑھتے ہوئے عالمی تشخص اور بھارت کی مسلسل سفارتی ناکامیوں نے مودی کو ایک بار پھر ڈرامے رچانے پر مجبور کر دیا۔ بھارتی آرمی چیف کا ’سندور 2.0‘ کے حوالے سے بیان یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا یہ سیاسی و عسکری عزائم میں ناکامی کا اعتراف ہے یا اندورونی مسائل سے توجہ ہٹانے کی سیاسی کوشش؟۔
اپنے خطاب میں بھارتی آرمی چیف نے خود اعتراف کیا کہ جدید میدانِ جنگ میں ہر نقل و حرکت مخالف فریق کی نظر میں ہوتی ہے اور کچھ بھی چھپایا نہیں جا سکتا۔ عسکری تیاری، باہمی ہم آہنگی اور انفارمیشن آپریشنز کے میدان میں بھارتی فوج کو چیلنجز کا سامنا ہے۔
بھارتی آرمی چیف کی جانب سے سندور ٹو کا بیان اس وقت آیا ہے جب بھارت میں مودی حکومت کی ناقص پالیسیوں کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ بھارتی حکومت پر بڑھتے ہوئے سیاسی ، سماجی اور معاشی دباؤ پاکستان مخالف بیانیہ بنانے کا موجب بن رہے ہیں۔
جالندھر دھماکا، پاکستان سے روابط پر گرفتاریوں کے دعوے اور اقوام متحدہ میں جھوٹا بیانیہ بنانا بھی بھارت کی داخلی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے سلسلے کی کڑی ہے۔
ماہرین کے مطابق، ”سندور 2.0“ کا تصور عسکری ضرورت سے زیادہ سیاسی تقاضوں کا عکاس دکھائی دیتا ہے، ایک ایسا فوجی آپریشن جو ایک سال بعد بھی ”جاری“ ہو ثبوت ہے کہ اس کے سیاسی اور اسٹریٹجک مقاصد حاصل کرنے میں بھارت ناکام رہا، حکمران جماعت اور گودی میڈیا پاکستان مخالف بیانیہ تشکیل دے رہے ہیں جس کا مقصد عوامی توجہ کو ریاستی دہشت گردی داخلی دباؤ اور معاشی بحران سے ہٹانا ہے، فوجی معاملات کو سیاسی بیانیے کا حصہ بنانے سے عسکری فیصلوں پر سیاسی اثرات کے بارے میں سوالات جنم لیتے ہیں۔
