واشنگٹن میں پیکجنگ پلانٹ میں کیمیکل ٹینک پھٹنے سے 11 افراد ہلاک
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں۔
برطانوی اخبار دی گارجین کے مطابق واشنگٹن کے شہر لانگ ویو میں قائم جاپانی کمپنی نِپون ڈائنو ویو پیکیجنگ کی پیپر مل میں ہونے والے دھماکے کے بعد ریسکیو ٹیموں نے مزید 9 کارکنوں کی لاشیں برآمد کر لیں۔ اس سے قبل دو ہلاکتوں کی تصدیق کی جا چکی تھی۔
حکام نے بتایا کہ دھماکا ایک ایسے بڑے ٹینک میں ہوا جس میں ” وائٹ لِکر“ نامی کیمیائی محلول موجود تھا۔ یہ محلول کاغذی گودا (پیپر پلپ) تیار کرنے کے عمل میں استعمال کیا جاتا ہے اور اس میں سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ شامل ہوتے ہیں۔
ریسکیو اور سرچ آپریشن کئی روز تک جاری رہا، جس دوران امدادی اہلکاروں نے بند علاقوں میں ملبہ ہٹایا جبکہ ڈرونز کے ذریعے بھی متاثرہ مقام کا جائزہ لیا گیا۔
فائر اینڈ ریسکیو ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ کے مطابق پھٹنے والے ٹینک میں تقریباً 34 لاکھ لیٹر کیمیائی مواد موجود تھا۔ حکام نے تصدیق کی کہ کیمیائی آلودگی قریبی کولمبیا دریا تک پہنچ گئی، تاہم ابتدائی ٹیسٹوں میں فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
حکام کے مطابق یہ حادثہ حالیہ برسوں میں امریکا کے مہلک ترین صنعتی حادثات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ دھماکے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ جاپان کی دوسری بڑی پیپر مینوفیکچرنگ کمپنی نِپون پیپر انڈسٹریز نے 2016 میں سیئٹل کی ٹمبر کمپنی ویئرہاؤزر سے لانگ ویو پلانٹ 22 کروڑ 50 لاکھ ڈالر میں خریدا تھا، جس کے بعد نِپون ڈائنو ویو پیکیجنگ کے نام سے ذیلی کمپنی قائم کی گئی۔