اسرائیلی حملوں کی ناکامی: جنوبی پارس فیلڈ سے گیس کی پیداوار دوبارہ بحال
ایران نے جنوبی پارس گیس فیلڈ کے تین سمندری پلیٹ فارمز سے گیس کی پیداوار دوبارہ بحال کر دی ہے۔ ان پلیٹ فارمز سے گیس کی پیداوار رواں سال مارچ میں اسرائیل کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں کے بعد معطل ہو گئی تھی۔
پارس آئل اینڈ گیس کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر توریج دہقانی نے ایران کے سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اتوار کے روز ان تینوں پلیٹ فارمز سے گیس کی نکاسی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور خوش قسمتی سے حملوں میں ان پلیٹ فارمز کو براہِ راست کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا۔
توریج دہقانی کا کہنا تھا کہ متاثرہ تنصیبات پر مرمت کا کام ابھی جاری ہے، اس لیے ان تینوں پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی گیس کو عارضی طور پر خطے کے دیگر پروسیسنگ پلانٹس کی طرف موڑا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ دنیا کے سب سے بڑے قدرتی گیس فیلڈ کے اس ایرانی حصے پر اسرائیلی فوج نے مارچ کے وسط میں حملہ کیا تھا، جس کے جواب میں ایران نے بھی پورے خطے میں عسکری و توانائی کے ڈھانچے پر میزائلوں اور ڈرونز سے جوابی کارروائیاں کی تھیں۔
اس کے بعد اپریل کے آغاز میں اسرائیل نے عسلویہ کے ساحلی علاقے میں واقع ایران کی سب سے بڑی پیٹرو کیمیکل تنصیب کو بھی نشانہ بنایا تھا۔
جنوبی پارس میں گیس کی پیداوار کا دوبارہ آغاز ایران کے لیے علامتی اور عملی دونوں لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ایران اس کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ نشانہ بننے والی اپنی تنصیبات کو تیزی سے دوبارہ بحال کر رہا ہے۔
جب ہم جنوبی پارس کی بات کرتے ہیں تو ہم ملک کی سب سے اہم ترین توانائی کی تنصیب کا ذکر کر رہے ہوتے ہیں۔ اس کا دوبارہ کھلنا یقیناً ایک اہم پہلا قدم ہے، لیکن اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا ایران اپنی توانائی کو باہر کے ممالک کو برآمد کرنے میں بھی اسی طرح کامیاب ہو پاتا ہے یا نہیں۔
جنوبی بسہیڑ صوبے کے ساحل کے قریب واقع یہ جنوبی پارس گیس فیلڈ مجموعی طور پر نو ہزار سات سو مربع کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہے جو ایران اور قطر کے درمیان مشترکہ ہے۔ اس کا ایرانی حصہ جنوبی پارس جبکہ قطری حصہ نارتھ فیلڈ کہلاتا ہے، اور یہ ایران میں بجلی اور گھریلو توانائی کی ضروریات پوری کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔