چین میں اَرتھ منرلز پر گریجویشن، امریکا سمیت مغرب کو پیچھے چھوڑ دیا

چین میں اس وقت 40 سے زائد خصوصی لیبارٹریاں اور کم از کم 11 یونیورسٹیاں اس شعبے میں تربیت فراہم کر رہی ہیں
شائع 01 جون 2026 01:34pm

چین میں نایاب معدنیات کی صنعت پر مہارت اور تعلیمی نظام نے اسے عالمی سطح پر واضح برتری دے دی ہے، جبکہ امریکا اور مغرب اس شعبے میں دوبارہ صلاحیت پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق چین کے شمالی علاقے باوٹو اور اندرونی منگولیا میں ہر سال سینکڑوں طلبہ نایاب معدنیات کی خصوصی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

یہاں اِنر منگولیا یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالجی اور تحقیقی ادارے جیسے باؤٹو ریئر ارتھ ریسرچ انسٹیٹیوٹ اس پورے صنعتی نظام کا حصہ ہیں۔

چین میں اس وقت 40 سے زائد خصوصی لیبارٹریاں اور کم از کم 11 یونیورسٹیاں اس شعبے میں تربیت فراہم کر رہی ہیں، جہاں سالانہ 500 سے زائد طلبہ داخلہ لیتے ہیں۔

ان اداروں سے فارغ التحصیل افراد فوراً ریاستی ریفائنریوں اور صنعت سے جڑ جاتے ہیں، جس سے چین کو انتہائی تربیت یافتہ افرادی قوت حاصل ہوتی ہے۔

صنعت کے سابق سربراہان کے مطابق چین میں نئے گریجویٹس فوری طور پر پیداوار کے قابل ہوتے ہیں، جبکہ دیگر ممالک میں اسی تربیت پر سالوں لگتے ہیں۔

چین اس وقت دنیا کی 90 فیصد سے زائد ریفائنڈ نایاب معدنیات اور میگنیٹس تیار کرتا ہے جو الیکٹرک گاڑیوں، جیٹ انجنز اور ونڈ ٹربائنز میں استعمال ہوتے ہیں۔

اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یونیورسٹیوں اور صنعت کے درمیان براہِ راست تعاون موجود ہے، جس سے تحقیق فوری طور پر صنعتی پیداوار میں بدل جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مغربی ممالک میں اس شعبے میں دلچسپی کم رہی ہے۔ امریکا میں صرف چند سو طلبہ سالانہ مائننگ اور میٹالرجیکل انجینئرنگ میں گریجویشن کرتے ہیں، اور کوئی باقاعدہ انڈرگریجویٹ ڈگری نایاب معدنیات کے نام سے موجود نہیں۔

تاہم امریکی ادارے جیسے امیس نیشنل لیبارٹری اور دیگر یونیورسٹیاں اب اس شعبے میں سرمایہ کاری بڑھا رہی ہیں، جبکہ امریکی محکمہ توانائی بھی مقامی پیداوار اور تحقیق کو فروغ دے رہا ہے۔

امریکا نے سال 2024 کے بعد اربوں ڈالرز اس شعبے کی بحالی پر خرچ کیے ہیں، جبکہ قانون سازی بھی جاری ہے تاکہ اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر تعلیمی اور صنعتی تعاون بڑھایا جا سکے۔

چین میں اس صنعت کی ترقی کے ساتھ ماحولیاتی مسائل بھی سامنے آئے ہیں، جن میں باوٹو کے قریب زمینی پانی کی آلودگی اور کیمیکل آلودگی شامل ہے، جسے چینی حکام نے بھی تسلیم کیا ہے۔

چین کی صنعت 17 مختلف نایاب معدنیات کو الگ کرنے جیسے پیچیدہ عمل پر مشتمل ہے، جس میں مختلف کیمیکلز استعمال ہوتے ہیں۔ یہی پیچیدگی مغربی ممالک کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہے، کیونکہ 1990 کی دہائی میں وہاں یہ صنعت تقریباً ختم ہو گئی تھی۔

ماہرین کے مطابق چین میں تحقیق اور صنعت کا گہرا تعلق اسے تیز، سستا اور مؤثر پیداوار کا فائدہ دیتا ہے، جبکہ مغرب اب دوبارہ اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر امریکا اور یورپ میں نئی ٹیکنالوجیز اور تحقیقی مراکز قائم کیے جا رہے ہیں، لیکن ابھی تک بڑے پیمانے پر صنعتی برتری چین کے پاس برقرار ہے۔

Read Comments