قدامت پسند یہودیوں کا اسرائیل میں صیہونیت کے خلاف بڑا احتجاج، سڑکیں اور ٹرینیں بند
اسرائیل میں مقیم ہزاروں قدامت پسند یہودیوں نے ملک بھر میں لازمی فوجی سروس میں شمولیت کے قانون کے خلاف ایک بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا ہے جس کے باعث کئی اہم شاہراہیں اور ٹرین سروس بری طرح متاثر ہوئی ہیں.
اس بڑے احتجاج کی وجہ سے یروشلم اور تل ابیب کے گردونواح میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام معطل ہو گیا اور گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں.
مظاہرے کے دوران لوگوں نے حکومت مخالف پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر اسرائیل کی فوجی پالیسیوں کے خلاف نعرے درج تھے.
کچھ مظاہرین کے پاس ایسے بورڈز بھی تھے جن پر واضح طور پر لکھا تھا کہ ”ہم صیہونی بن کر جینے کے بجائے یہودی کے طور پر مرنے کو ترجیح دیں گے.“
اس کے علاوہ مظاہرین نے یہ نعرہ بھی لگایا کہ ”ہم صیہونی مذہب کی خاطر فوج میں شمولیت سے صاف انکار کرتے ہیں.“
اسرائیل کے قانون کے مطابق عام طور پر تمام یہودی مردوں اور خواتین کے لیے فوج میں خدمات انجام دینا لازمی ہوتا ہے، جہاں مردوں کو تقریباً تین سال اور خواتین کو دو سال لازمی ڈیوٹی دینا پڑتی ہے جس کے بعد انہیں کئی سالوں تک ریزرو فورس کا حصہ بھی رہنا پڑتا ہے.
تاہم، اسرائیل کی طاقتور قدامت پسند مذہبی جماعتیں ماضی میں اپنے پیروکاروں کے لیے اس قانون سے استثنیٰ حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں تاکہ ان کے نوجوان فوج میں جانے کے بجائے مذہبی مدرسوں میں تعلیم حاصل کر سکیں.
اب یہ رعایتی قانون خطرے میں پڑ چکا ہے کیونکہ بیک وقت کئی محاذوں پر جنگ لڑنے کی وجہ سے اسرائیلی فوج کو فوجیوں کی شدید کمی کا سامنا ہے اور وہ لازمی فوجی سروس کی مدت کو مزید بڑھانے پر غور کر رہی ہے، جس کے خلاف یہ شدید عوامی ردعمل سامنے آیا ہے.