پانی کی بڑھتی ہوئی قلت سے نمٹنے کی تیاری: پاکستان میں 4 بڑے ڈیموں کی تعمیر تیز

چاروں ڈیمز میں 80 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کا اضافہ ہوگا
شائع 02 جون 2026 11:01am

پاکستان نے ملک میں پانی کی حفاظت کو یقینی بنانے اور موسماتی تبدیلیوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے چار بڑے ڈیموں کی تعمیر کے کام کو تیز کر دیا ہے جس سے ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں 80 لاکھ ایکڑ فٹ سے زیادہ کا اضافہ ہوگا.

سرکاری میڈیا کے مطابق ان منصوبوں میں دیامر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم، کرم تنگی ڈیم اور نئی گاج ڈیم شامل ہیں.

رپورٹ کے مطابق، ان ڈیموں کی تعمیر سے نہ صرف پانی کی دستیابی میں بہتری آئے گی بلکہ سیلاب کی روک تھام اور سستی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں بھی بڑا اضافہ ہوگا.

پاکستان میں اس وقت بارشوں کے بدلتے ہوئے نظام اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کی وجہ سے پانی کے ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے، اور حکام نے بارہا خبردار کیا ہے کہ ملک میں پانی کی مانگ اور سپلائی میں فرق بڑھتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے نئے ڈیم بنانا قومی ترجیح بن چکا ہے.

سرکاری خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس وقت چار اہم منصوبوں پر کام جاری ہے جن کی مجموعی طور پر پانی ذخیرہ کرنے کی زندہ صلاحیت 8.136 ملین ایکڑ فٹ ہے.

رپورٹ کے مطابق ان منصوبوں میں سب سے اہم دیامر بھاشا ڈیم ہے جو اکیلا ہی 6.4 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت فراہم کرے گا، جبکہ مہمند ڈیم 0.676 ملین ایکڑ فٹ، کرم تنگی ڈیم 0.90 ملین ایکڑ فٹ اور نئی گاج ڈیم 0.16 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت فراہم کرے گا.

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس وقت پاکستان کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کے تین بڑے ذخائر موجود ہیں جن میں تربیلا ڈیم، منگلا ڈیم اور چشمہ بیراج شامل ہیں.

پانی اور بجلی کی ترقی کے ادارے یعنی واپڈا نے موجودہ دور کو ڈیموں کی دہائی قرار دیا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی مانگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کیا جا سکے.

اس کے علاوہ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مستقبل کے لیے مزید کئی ڈیموں کی منصوبہ بندی اور ڈیزائننگ پر کام ہو رہا ہے جن کی مجموعی صلاحیت 15 ملین ایکڑ فٹ سے زیادہ ہے، جن میں سندھ بیراج، شیوک ڈیم، اکوڑی ڈیم، چنیوٹ ڈیم اور مرنج ڈیم شامل ہیں.

واپڈا نے دریاؤں کے بہاؤ، سرحد پار سے آنے والے پانی، ڈیموں کی صورتحال اور بارشوں کا بروقت ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے اپنے مانیٹرنگ اور ٹیلی میٹری سسٹم کو بھی وسیع کر دیا ہے.

یاد رہے کہ اس سے قبل حکومت نے بتایا تھا کہ پاکستان کے پاس صرف 90 دنوں کی ضرورت کے برابر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے، جبکہ گزشتہ سال وزیر اعظم شہباز شریف نے پنجاب میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد ہنگامی بنیادوں پر نئے ڈیم اور آبی ذخائر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے اور زرعی زمینوں کو سیراب کرنے کے لیے نئے ذخائر کی تعمیر ناگزیر ہو چکی ہے.

Read Comments