سلمان خان کا فلم 'کالا ہرن' پر قانونی نوٹس، ریلیز خطرے میں پڑ گئی
بولی ووڈ کے سپر اسٹار سلمان خان کی قانونی ٹیم نے ایک نئی فلم ”کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیس“ کے میکرز کو قانونی نوٹس بھیج کر اس کی ریلیز روکنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فلم مبینہ طور پر کالے ہرن کے اس مشہور کیس پر مبنی ہے جس کا سامنا سلمان خان برسوں سے عدالتوں میں کر رہے ہیں۔
سلمان خان کے وکلاء کی جانب سے بھیجے گئے اس نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ فلم کی تشہیر اور ریلیز کو فوری طور پر روک دیا جائے اور اب تک سامنے آنے والے تمام پوسٹرز اور اشتہاری مواد کو ہٹا دیا جائے۔ نوٹس میں یہ انتباہ بھی دیا گیا ہے کہ اگر ان مطالبات پر عمل نہ کیا گیا تو سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
دوسری طرف فلم کے پروڈیوسر امیت جانی اس قانونی نوٹس پر کافی برہم نظر آتے ہیں اور انہوں نے اسے دبانے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ امیت جانی اس سے قبل بھی متنازع موضوعات پر فلمیں پروڈیوس کر چکے ہیں۔ ان کی ایک سابقہ پروڈکشن ایک مشہور درزی کے قتل کے واقعے سے متاثر تھی۔
امیت جانی نے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں اور ان کی ٹیم کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نوٹس کا مقصد یہ ہے کہ سلمان خان کی شہرت اور طاقت کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہ پیچھے ہٹ جائیں۔
فلم کے میکرز کا دعویٰ ہے کہ یہ کہانی حقیقی زندگی کی قانونی لڑائیوں اور ایکشن سے بھرپور واقعات سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے جسے بین الاقوامی معیار کے مطابق فلمایا جا رہا ہے۔
اگرچہ فلم کے ڈائریکٹر بھارت سنگھ اور پروڈیوسر امیت جانی نے کھل کر یہ نہیں کہا کہ یہ مکمل طور پر سلمان خان کی زندگی پر مبنی ہے، لیکن فلم کا نام اور پس منظر اسی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
تنازع کے باوجود میکرز نے حال ہی میں فلم کا پہلا پوسٹر بھی جاری کیا ہے جس میں ایک پراسرار کردار نظر آ رہا ہے اور اعلان کیا گیا ہے کہ فلم کا ٹیزر 20 جون کو پیش کیا جائے گا۔
ابھی تک سلمان خان یا ان کی ٹیم نے امیت جانی کے الزامات پر کوئی عوامی ردعمل نہیں دیا ہے، لیکن اس قانونی تنازع نے فلم کی ریلیز پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔