بھارت میں موجود اسرائیلی فوجی کو گرفتار کیا جائے، ہند رجب فاؤنڈیشن کا مودی حکومت سے مطالبہ
فلسطین میں جنگی جرائم پر قانونی کارروائی کے لیے سرگرم انسانی حقوق کی تنظیم ہند رجب فاؤنڈیشن نے بھارت میں موجود ایک اسرائیلی فوجی ایتان گلبووا کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے بھارتی وزارتِ داخلہ اور امیگریشن حکام کو شکایت جمع کرادی ہے۔ شکایت میں جنیوا کنونشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسرائیلی اہلکار جنگی مجرم ہے اور بھارتی حکومت اسے گرفتار کر کے اس پر مقدمہ چلانے کی پابند ہے۔
ہند رجب فاؤنڈیشن کی ویب سائٹ پر موجود تفصیلات کے مطابق اس نے بھارتی پولیس، وزارتِ داخلہ اور بیورو آف امیگریشن کو ایک تفصیلی رپورٹ ارسال کی ہے، جس میں اسرائیلی فوج کے ایک ریزرو اہلکار ایتان گلبووا کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ غزہ میں تباہی پھیلانے میں براہِ راست ملوث رہا ہے اور اس وقت سیاح کے روپ میں بھارتی ریاست ہماچل پردیش میں موجود ہے۔
تنظیم کی جانب سے بھارتی حکام کو تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ جمع کرائی گئی ہے، جس میں شواہد کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے اہلکار ایتان گلبووا نے غزہ میں انتقامی کارروائیوں کے دوران پوری کی پوری رہائشی عمارتوں کو دانستہ طور پر تباہ کیا اور ان کارروائیوں کا جشن بھی منایا۔
تنظیم کے مطابق جنیوا کنونشن ایکٹ کے تحت یہ اقدامات واضح طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں اور بھارت جنیوا کنونشنز کا دستخط کنندہ ملک ہونے کے ناطے اس بات کا پابند ہے کہ وہ جنگی جرائم میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرے، چاہے وہ کسی بھی ملک سے تعلق رکھتے ہوں۔
ہند رجب فاؤنڈیشن نے درخواست میں مؤقف اپنایا ہے کہ ایتان گلبووا ایک عام سیاح نہیں بلکہ ایک ایسا شخص ہے جو جنگی جرائم کے الزامات کے باوجود بھارت میں آزادانہ طور پر گھوم رہا ہے۔
تنظیم نے بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے فوری ایکشن لے۔
ہند رجب فاؤنڈیشن بیلجیم میں قائم کی گئی بین الاقوامی تنظیم ہے، جس کا نام غزہ میں شہید ہونے والی 6 سالہ فلسطینی بچی ’ہند رجب‘ کے نام پر رکھا گیا ہے جس کی المناک شہادت اور مدد کے لیے پکارنے والی آخری آڈیو کال نے دنیا بھر کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
اسی کی یاد میں قائم ہونے والی اس تنظیم کا بنیادی مقصد جنگی جرائم میں ملوث اسرائیلی فوجیوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہے۔
یہ تنظیم سوشل میڈیا پر اسرائیلی فوجیوں کی پوسٹ کی گئی ویڈیوز کا جائزہ لے کر ان کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات تیار کرتی ہے اور مختلف ممالک کی عدالتوں میں کیس فائل کرتی ہے۔
ہند رجب کی دلسوز کہانی پر ’وائس آف ہند رجب‘ نامی باقاعدہ فلم بھی بن چکی ہے، جسے عالمی سطح پر بے پناہ پذیرائی ملی ہے۔
وینس فلم فیسٹیول میں جب اس فلم کا پریمیئر ہوا تو وہاں موجود حاضرین جذباتی ہو کر 23 منٹ تک کھڑے ہو کر تالیاں بجاتے رہے جب کہ فلم کو 7 ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ اس فلم سمیت ہند رجب پر بننے والی دستاویزی فلمیں اس وقت دنیا بھر میں فلسطینی بچوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کا ایک بڑا دستاویزی ثبوت بن چکی ہیں۔