ٹرمپ نے غیر تجربہ کار اتحادی کو قائم مقام انٹیلی جینس چیف مقرر کر دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز وفاقی ہاؤسنگ ریگولیٹر بل پلٹے کو قائم مقام ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجینس مقرر کر دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس تقرری کے ساتھ 38 سالہ بل پلٹے، جن کے پاس قومی سلامتی یا انٹیلی جنس کا کوئی سابقہ تجربہ نہیں، ایسے وقت میں امریکی انٹیلی جنس ادارے کی قیادت سنبھالیں گے جب امریکا ایران کے ساتھ جنگ سمیت متعدد عالمی کشیدگیوں اور خارجہ پالیسی کے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔
بل پلٹے اس سے قبل وفاقی ہاؤسنگ فنانس ایجنسی کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ اپنے دورِ سربراہی میں انہوں نے ٹرمپ کے بعض سیاسی مخالفین کے خلاف مبینہ مارگیج فراڈ کی تحقیقات کی حمایت کی تھی، تاہم اب تک ان تحقیقات کے نتیجے میں کسی کے خلاف فوجداری الزامات عائد نہیں کیے گئے۔
بل پلٹے اس عہدے سے استعفا دینے والی سابق انٹیلیجینس ڈائریکٹر تلسی گبارڈ کی جگہ لیں گے، جو فروری 2025 سے ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس کے منصب پر فائز تھیں۔
تلسی گبارڈ نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ 30 جون سے اپنا عہدہ چھوڑ رہی ہیں۔ رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ساتھ اختلافات کے باعث انہیں اس منصب سے ہٹایا گیا، تاہم تلسی گبارڈ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے شوہر میں کینسر کی تشخیص کے بعد استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔
قائم مقام تقرری کے تحت بل پلٹے سینیٹ کی توثیق کے بغیر 210 دن تک اس عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں۔ اس مدت کے دوران نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات بھی منعقد ہوں گے، جن میں ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ پلٹے اپنی موجودہ ذمہ داریاں بھی برقرار رکھیں گے۔ وہ وفاقی ہاؤسنگ فنانس ایجنسی کے ڈائریکٹر اور سرکاری حمایت یافتہ مارگیج اداروں فینی مے اور فریڈی میک کے چیئرمین کے طور پر بھی کام جاری رکھیں گے، جبکہ بیک وقت امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کے 18 اداروں کی نگرانی بھی کریں گے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ولیم پلٹے کو امریکا کے حساس ترین معاملات، مالیاتی منڈیوں کے استحکام اور فینی مے و فریڈی میک کے تحت 10 ٹریلین ڈالر سے زائد اثاثوں کے انتظام کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔
قومی سلامتی کے شعبے میں تجربہ نہ رکھنے کے باوجود پلٹے اب سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) اور نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) سمیت اہم انٹیلی جنس اداروں کی نگرانی کریں گے۔
اس تقرری پر ڈیموکریٹک رہنماؤں اور بعض ریپبلکن ارکان نے شدید تنقید کی ہے۔ سینیٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے رکن ریپبلکن سینیٹر جان کورنن نے کہا کہ انہیں اس منصب کے لیے بل پلٹے کی اہلیت کا کوئی واضح ثبوت نظر نہیں آتا۔
سینیٹ میں ریپبلکن اکثریتی رہنما جان تھیون نے بھی اشارہ دیا کہ اگر ٹرمپ مستقبل میں پلٹے کو مستقل طور پر اس منصب کے لیے نامزد کرتے ہیں تو انہیں سینیٹ سے منظوری حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ ان کے بقول، مستقل تقرری کی صورت میں پلٹے کو ایک طویل اور دشوار راستے سے گزرنا ہوگا۔