ڈان 3 تنازع: فلموں سے بائیکاٹ ہونے پر رنویر سنگھ کا جوابی وار

رنویر سنگھ اور ایف ڈبلیو آئی سی ای آمنے سامنے، معاملہ قانونی جنگ تک پہنچ گیا۔
شائع 03 جون 2026 11:08am

بولی ووڈ اداکار رنویر سنگھ نے فرحان اختر کی فلم ڈان 3 سے اچانک الگ ہونے کے بعد اپنے خلاف جاری ہونے والی عدم تعاون کی ہدایت کے جواب میں فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سنے ایمپلائز (ایف ڈبلیو آئی سی ای) کو قانونی نوٹس بھیج دیا ہے۔

یہ فیڈریشن بھارتی فلم اور ٹیلی ویژن انڈسٹری کے پانچ لاکھ سے زائد کارکنوں کی نمائندگی کرنے والی ایک بڑی تجارتی تنظیم ہے۔

ذرائع کے مطابق، رنویر نے یہ نوٹس منگل کو بھیجا ہے، جس سے ایک ہفتہ قبل اس فلمی تنظیم نے اپنے ارکان کو اداکار کے ساتھ کام نہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

فیڈریشن کا دعویٰ ہے کہ ڈان 3 کے معاملے پر فرحان اختر اور رتیش سدھوانی کا پروڈکشن ہاؤس ایکسل انٹرٹینمنٹ ان کے ساتھ مکمل تعاون کر رہا ہے، لیکن رنویر سنگھ تین بار نوٹس ملنے کے باوجود ان کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

اس قانونی نوٹس سے پہلے 23 مئی کو رنویر کے نمائندے نے تنظیم کو بتایا تھا کہ یہ معاملہ ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، تاہم تنظیم کا اصرار ہے کہ اداکار ذاتی طور پر پیش ہو کر اس مسئلے کو حل کریں۔ اس حوالے سے تنظیم آج ممبئی میں ایک پریس کانفرنس بھی کر رہی ہے تاکہ وہ اپنا اگلا لائحہ عمل بتا سکے۔

اس معاملے پر میڈیا اور انٹرٹینمنٹ کے وکیل سنجے واسودیون نے اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ رنویر کے پاس قانونی کارروائی کرنے کا پورا حق موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ کو آئینی طور پر اپنی پسند کا کوئی بھی قانونی کام کرنے کا حق حاصل ہے، جب تک کہ وہ غیر قانونی نہ ہو۔ ابھی یہ تنظیم ایک بے ضرر شیر کی طرح ہے، لیکن جب یہ رنویر کو مزید پروڈیوسرز کے ساتھ کام کرنے سے روکے گی، تو مجھے یقین ہے کہ وہ یونین کے اس حکم کو چیلنج کریں گے تاکہ ان کا کام کرنے کا حق محفوظ رہے۔

وکیل نے مزید کہا کہ چونکہ رنویر اس تنظیم کے ممبر ہی نہیں ہیں، اس لیے وہ ان کی بات ماننے کے پابند بھی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایسی تنظیم کی بات نہ ماننا کوئی جرم نہیں جس کے پاس کوئی سرکاری طاقت نہ ہو۔

تنظیم کے صدر بی این تیواری نے کہا تھا کہ کوئی بھی سپر سٹار قانون سے بڑا نہیں ہوتا۔ اس پر وکیل کا کہنا تھا کہ یہ صرف جذباتی باتیں ہیں، قانون میں ان کی کوئی جگہ نہیں۔

Read Comments