چاچا کرکٹ: پاکستان ٹیم کے بارہویں کھلاڑی
بومرز سے لے کر جین زی میں یکساں مقبول، پاکستانی کرکٹ کے سب سے معروف اور جانے مانے مداح ’چاچا کرکٹ‘ اب روایتی انداز میں پاکستانی پرچم تھامے گراؤنڈ میں نظر نہیں آئیں گے۔ وہ پاکستان ٹیم کے بارہویں کھلاڑی تھے جو گراؤنڈ میں نہیں بلکہ اسٹینڈ سے ٹیم کی حوصلہ افزائی اور پاکستان زندہ باد کے نعروں سے شائقین کا لہو گرماتے تھے۔
پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کو چند چہروں میں سمیٹنے کی کوشش کی جائے تو یہ تاریخ 77 سالہ ’چاچا کرکٹ‘ کو شامل کیے بغیر ادھوری رہے گی۔
سبز کُرتا، سفید شلوار اور چاند تارے والی ٹوپی کے ساتھ پاکستانی پرچم ہاتھ میں تھامے دنیا بھر کے کرکٹ کے میدانوں میں پاکستانی کی نمائندگی کرنے والے سُپر فین ’چاچا کرکٹ‘ تماشائی سے بڑھ کر پاکستانی کرکٹ اور ثقافت کا ایک مستقل حصہ رہے ہیں۔
اپنے اس طویل سفر میں جہاں وہ بے شمار یادگار لمحات کے عینی شاہد رہے وہیں انہوں نے کئی زخم بھی جھیلے، جنہیں وہ آج تک نہیں بھول سکے ہیں۔ ڈھلتی عمر کے باوجود کرکٹ کے جنون کو تازہ رکھنے کے لیے وہ ایک نیا سفر شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
77 سالہ چوہدری عبدالجلیل 500 انٹرنیشنل میچز میں گرین شرٹس کی سپورٹ کے لیے دنیا بھر کے گراؤنڈز میں موجود رہے۔
اگرچہ چاچا کرکٹ ٹیم کی موجودہ کارکردگی سے مایوس ہیں، تاہم وہ مستقبل کے حوالے سے اب بھی پُرامید ہیں۔ ماضی میں جب جب ٹیم پر کڑا وقت آیا تو وہ یہی کہتے پائے گئے کہ ’ہوتا ہے بھائی ہوتا ہے، کھیل میں ایسا ہوتا ہے، کبھی آگے کبھی پیچھے، کبھی خوشی کبھی غم، کبھی تم کبھی ہم‘۔
چاچا کرکٹ نے ڈھلتی عمر اور صحت کی وجہ سے اب ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کے مطابق لاہور میں آسٹریلیا کے خلاف تیسرے اور آخری ون ڈے میں وہ آخری مرتبہ اپنے روایتی انداز میں ٹیم کو سپورٹ کرتے نظر آئیں گے۔
سیالکوٹ کے علاقے ڈسکہ سے تعلق رکھنے والے چوہدری عبدالجلیل نے 1969 میں پہلی مرتبہ 19 برس کی عمر میں لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان ایک روزہ انٹرنیشنل میچ دیکھا۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے ان کے دل میں کرکٹ کا ایسا جنون پیدا کیا جو کئی دہائیوں بعد بھی آج تک قائم ہے۔
چاچا کرکٹ 1973 میں روزگار کی تلاش کے لیے متحدہ عرب امارات چلے گئے تھے۔ شارجہ اور ابوظہبی میں مختلف ملازمتیں کرنے کے باوجود ان کا کرکٹ سے ان کا جنون کم نہ ہوا۔
ابوظہبی میں ملازمت کے دوران بھی جب پاکستان کا میچ شارجہ میں ہوتا، وہ تمام مصروفیات ترک اور طویل سفر کر کے اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے باقاعدگی سے اسٹیڈیم پہنچ جایا کرتے تھے۔
سنہ 1980 اور 1990 کی دہائی میں شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم پاک-بھارت مقابلوں کا مرکز ہوا کرتا تھا اور اسی عرصے میں چوہدری عبدالجلیل کی داڑھی میں سفیدی بھی نمایاں ہوچکی تھی۔ اسی دوران ایک میچ میں وہ اپنا روایتی لباس زیب تن کیے، پاکستانی پرچم لہراتے اسکرین پر نظر آئے تو کمنٹری باکس سے انہیں ’چاچا کرکٹ‘ کہہ کر پکارا گیا اور وقت کے ساتھ یہی نام ان کی مستقل شناخت بن گیا۔
سنہ 1994 کے ’آسٹرل ایشیا کپ‘ کے مقابلوں کے دوران چاچا کرکٹ کا روایتی لباس اور جوش و جذبہ اس قدر نمایاں ہوا کہ وہ پاکستان کے نمائندہ چہرے کے طور پر دنیا بھر میں پہچانے جانے لگے۔ ان کی اسی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی پیشکش پر یو اے ای کی نوکری چھوڑ کر وطن واپس آگئے اور پی سی بی نے انہیں باضابطہ طور پر قومی ٹیم کا آفیشل ’چیئر لیڈر‘ مقرر کردیا۔
چاچا کرکٹ کے جنون کا سب سے بڑا ثبوت 1999 میں انگلینڈ میں ہونے والا آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ تھا، جب ان کے پاس ورلڈکپ میں شرکت کے لیے برطانیہ جانے اور اخراجات کے لیے کوئی اسپانسرشپ دستیاب نہیں تھی۔ انہوں نے حیرت انگیز قدم اٹھایا اور اپنا ذاتی گھر بیچ کر پاکستان ٹیم کو سپورٹ کرنے انگلینڈ پہنچ گئے۔
برطانوی ہائی کمیشن نے بھی ان کے اس جذبے کو دیکھتے ہوئے دستاویزات کی چھان بین کیے بغیر ہی صرف ایک گھنٹے میں انہیں اعزازی ویزا جاری کر دیا تھا۔
اسی واقعے کے بعد وہ بین الاقوامی کرکٹ حلقوں میں ایک معروف شخصیت بن گئے اور دنیا بھر کے اسٹیڈیمز میں انہیں پاکستانی کرکٹ کے سفیر کے طور پر خصوصی توجہ ملنے لگی۔
اگرچہ چاچا کرکٹ پاکستانی کرکٹ کے سب سے نمایاں سپورٹر سمجھے جاتے ہیں لیکن ان کی مقبولیت صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ وہ بھارتی شائقین میں بھی مقبول ہیں اور وہ 6 مرتبہ بھارت کا دورہ بھی کرچکے ہیں۔
بھارت کے معروف سُپر فین ’سدھیر کمار‘ سمیت کئی غیر ملکی شائقین کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات بھی رہے۔ بھارت کے ساتھ میچز اور دوروں کے موقع پر انٹرویوز میں کھیل کے ذریعے دوستی، احترام اور مثبت رویوں کی وجہ سے بھی چاچا کرکٹ میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے رہے اور ان کے بین الاقوامی فینز میں اضافہ ہوتا رہا۔
چاچا کرکٹ کے مطابق پاکستان ٹیم کو 500 میچز میں براہِ راست سپورٹ کرنا ان کی زندگی کا ایک بڑا خواب تھا، جو پورا ہوچکا ہے۔
نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط اس سفر میں ان کے پاس یادوں کا ایک خزانہ موجود ہے۔ ان میں 1986 میں شارجہ کے تاریخی فائنل میں جاوید میانداد کا آخری گیند پر چھکا بھی شامل ہے، جسے وہ یادگار ترین لمحہ قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح 2017 کی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں بھارت کے خلاف پاکستان کی فتح بھی ان کے یادگار لمحات میں سے ایک ہے۔
چاچا کرکٹ کے مطابق میدان میں خوشیوں کے ساتھ مایوسیاں بھی ان کے سفر کا حصہ رہیں۔ وہ خاص طور پر 2024 کے ٹی20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف پاکستان کی شکست کو افسوس کے ساتھ یاد کرتے ہیں، جب پاکستان بھارت کے 120 رنز کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا۔
اسی طرح 2011 کے ورلڈ کپ سیمی فائنل میں موہالی میں بھارت کے خلاف شکست بھی ان کی تلخ یادوں میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق وہ میچ دیکھنے کے لیے انہوں نے طویل اور مشکل ترین سفر طے کیا تھا، مگر میچ کا نتیجہ ان کی توقعات کے مطابق نہیں نکل سکا تھا۔
اس کے باوجود وہ شکست کو کھیل کا حصہ سمجھتے ہوئے قومی ٹیم کی بھرپور سپورٹ اور شائقین کو یہی پیغام دیتے رہے ہیں کہ کھیل میں کبھی جیت اور کبھی ہار ہوتی ہے۔
77 برس کی عمر میں اب چاچا کرکٹ ایک نیا سفر شروع کرنا چاہتے ہیں۔ چوہدری عبدالجلیل سیالکوٹ کے مضافات میں ’کرکٹ میوزیم‘ قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جہاں وہ اپنے 58 سالہ طویل سفر کے دوران جمع کی گئی یادگار اشیاء، کھلاڑیوں کے دستخط شدہ بلے، گیندیں، تصاویر اور دیگر نوادرات نمائش کے لیے پیش کی جائیں گی۔
چاچا کرکٹ اپنی مقبولیت اور شناخت کو معاشرے کے فائدے کے لیے استعمال کی غرض سے فلاحی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے خواہش مند بھی ہیں۔
اگرچہ پاکستانی کرکٹ اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ عالمی ایونٹس میں خاطر خواہ نتائج نہ ملنے کی وجہ سے شائقین مایوس نظر آتے ہیں لیکن چاچا کرکٹ اب بھی پُر امید نظر آتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ کرکٹ میں حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ کبھی کامیابی ملتی ہے اور کبھی ناکامی، مگر کھیل سے محبت ختم نہیں ہونی چاہیے۔
ان کے اس طویل سفر، کرکٹ کے جنون اور جذبے کے اعتراف میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کے لیے خصوصی الوداعی تقریب کا اہتمام کیا اور ان کی خدمات کے اعتراف میں نقد انعام کا بھی اعلان کیا ہے۔ سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں بھی انہیں خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔
پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں ’چاچا کرکٹ‘ ایک ایسی روایت کا نام ہے جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
