کویت پر حملے کے بعد 2 ایرانی سفارت کاروں کو 24 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم
کویت نے ایران کی جانب سے اپنی سرزمین پر ہونے والے حملوں کے بعد 2 ایرانی سفارت کاروں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیتے ہوئے فوری ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
کویتی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ ایران کے ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد دو ایرانی سفارت کاروں ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا گیا ہے جب کہ دونوں سفارت کاروں کو 24 گھنٹوں کے اندر کویت چھوڑنا ہوگا۔
وزارتِ خارجہ نے ایران کے قائم مقام چارج ڈی افیئرز (ناظم الامور) کو طلب کر کے ایران کی جانب سے کی جانے والی وحشیانہ اور مسلسل جارحیت پر سخت الفاظ میں باضابطہ احتجاجی مراسلہ تھمایا۔ کویت نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ سفارتی مشن میں ملازمین کی تعداد کم کرنے کے اقدام کے تحت کیا گیا ہے۔
یہ اقدام ایران کی جانب سے حالیہ حملے اور جاری کشیدگی کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے تاہم اس معاملے پر ایران کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب کویت نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے، ایسے اقدامات کو فوری طور پر روکا جانا ضروری ہے تاکہ خطے کو مزید کشیدگی اور تناؤ سے بچایا جا سکے۔
کویت نے واضح کیا کہ وہ اس نوعیت کی جارحانہ کارروائیوں کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے ہر ممکن کوشش کی حمایت کرتا ہے۔
وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ ریاست کویت بحرین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور اس کے ساتھ کھڑی ہے جب کہ بحرین کی خود مختاری، سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت جاری رکھے گی۔
کویتی حکام کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جب کہ 63 افراد زخمی ہوئے جب کہ متعدد اہم تنصیبات اور سفارتی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔
سعودی عرب
ادھر سعودی عرب نے بھی بحرین اور کویت پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق ایرانی حملے خلیجی ممالک کی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
سعودی عرب نے بحرین اور کویت سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے دونوں ممالک کو ان کی سالمیت اور سیکیورٹی کے لیے ہر ممکن تعاون کا بھی یقین دلایا۔
قطر، عمان
قطر نے بھی کویت اور بحرین میں سویلین اہداف پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں۔
عمان نے بھی اپنے پڑوسی ممالک کویت اور بحرین پر حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور شہریوں کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
عمان کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ عمان بحرین اور کویت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور ان اقدامات کی حمایت کرتا ہے جو دونوں ممالک اپنی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے کر رہے ہیں۔
وزارت خارجہ کے مطابق عمان نے ایک بار پھر تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے، کشیدگی سے گریز کرنے اور تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سفارتی ذرائع اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ بیان میں زور دیا گیا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے فوری طور پر سفارتی راستہ اپنانا ناگزیر ہے۔
بحرین ڈیفنس فورس
اسی طرح بحرین ڈیفنس فورس کی جنرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ ایران میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے اپنے مجرمانہ حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایران بحرین میں سویلین املاک کو بھی نشانہ بنارہا ہے جو انتہائی قابل مذمت ہے۔
یاد رہے کہ علاقائی کشیدگی اس وقت سے جاری ہے جب فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کا آغاز ہوا تھا، جن میں بھاری جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئیں۔
بعد ازاں 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی سے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تاہم خطے میں دیرپا امن کے لیے جامع معاہدے کی کوششیں تاحال کامیاب نہیں ہو سکیں۔