یوکرینی صدر کا پیوٹن سے جنگ ختم کرنے کا مطالبہ، براہِ راست ملاقات کی پیشکش کردی
یوکرین کے صدر زیلینسکی نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے جنگ کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے دوطرفہ ملاقات کی پیشکش کر دی ہے۔
صدر زیلنسکی نے روسی صدر کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں انہوں نے روبرو ملاقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان لڑائی بہت ہو چکی، اب یہ صدر پیوٹن پر منحصر ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے کیا فیصلہ کرتے ہیں۔
زیلنسکی نے اس حوالے سے ایکس پر لکھا کہ یوکرین مذاکرات کے دوران جنگ بندی کے لیے تیار ہے، تاہم اگر روس جنگ بندی پر آمادہ نہیں ہوتا تو یوکرین اپنی دفاعی جنگ جاری رکھنے کے لیے بھی تیار ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ممکنہ ملاقات کے لیے وقت اور مقام کا تعین بھی کیا جانا چاہیے تاکہ امن عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔
زیلنسکی کے خط کا لہجہ سخت، چیلنجنگ اور بعض مقامات پر طنزیہ بھی تھا۔ انہوں نے روسی سرزمین پر یوکرین کے حالیہ حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے پیوٹن کو تنقید کا نشانہ بنایا اور لکھا کہ 26 برس اقتدار میں رہنے کے بعد عمر کے اثرات اب نمایاں ہونے لگے ہیں۔
خط میں یوکرینی صدر نے براہِ راست دعوت دیتے ہوئے لکھا کہ یوکرین اس جنگ کو میرے اور آپ کے درمیان براہِ راست بات چیت کے ذریعے ختم کرنے کی تجویز دیتا ہے۔ میں آپ سے ملاقات کی پیشکش کرتا ہوں۔
یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ روسی افواج تاحال مشرقی یوکرین کے اہم علاقے ڈونیٹسک پر مکمل قبضہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں، جبکہ یوکرین اپنی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب کریملن کے ترجمان دمتری پیسکو نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ صدر زیلنسکی جب چاہیں ماسکو آ کر صدر پیوٹن سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
تاہم انہوں نے یہ بھی بتایا کہ زیلنسکی کا خط ابھی تک صدر پیوٹن کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔
روسی حکام کے مطابق یوکرینی صدر کی جانب سے بھیجے گئے خط کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ دلچسپ امر یہ ہے کہ زیلنسکی اپنے خط میں پہلے ہی ماسکو جا کر ملاقات کی تجویز مسترد کر چکے ہیں، جس سے ملاقات کے مقام کے حوالے سے اختلافات برقرار دکھائی دیتے ہیں۔