کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی امریکا سے بھارت کے لیے روانہ
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے امریکا سے بھارت کے لیے روانیہ ہوگئے ہیں جس کا اعلان انہوں نے اپنے سوشل میڈیا ایکس اکاؤنٹ پر کیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کاکروچ جناتا پارٹی کے سربراہ نے لکھا کہ اپنا اعتماد آئین کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔
اس سے قبل سی جے پی نے جمعرات کے روز اپنے حامیوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ نئی دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اپنے بانی کی آمد کے موقع پر جمع نہ ہوں۔
یہ ہدایت اس ابتدائی اپیل کے بعد سامنے آئی تھی جس میں بوسٹن سے تعلیم یافتہ دیپکے نے اپنے حامیوں کو 6 جون کو ایئرپورٹ پر اکٹھا ہونے کی کال دی تھی، اسی روز دہلی کے جنتر منتر پر ایک احتجاج بھی طے تھا جس میں بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے نیٹ پیپر لیک تنازع کے باعث استعفے کا مطالبہ کیا جانا تھا۔
کاکروچ جناتا پارٹی نے اپنے حامیوں سے پرامن رہنے اور کسی بھی قسم کی بدنظمی سے گریز کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔ پارٹی کے مطابق احتجاج کو قانونی اور پرامن رکھنا ضروری ہے تاکہ تحریک کو نقصان نہ پہنچے۔
ابھیجیت دیپکے نے بھی حامیوں کو تلقین کی کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور احتجاج کو پرامن اور قانونی رکھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم قانون کی پاسداری کرنے والے شہری ہیں اور مخالفین موقع تلاش کر رہے ہیں کہ تحریک کو بدنام یا مسترد کیا جا سکے، اس لیے ایسی کوئی صورتحال پیدا نہیں ہونی چاہیے۔
دوسری طرف 6 جون کے مجوزہ احتجاج کے لیے پولیس اجازت سے متعلق سوالات بھی سامنے آئے ہیں۔ حال ہی میں مقرر ہونے والی سی جے پی کی ترجمان وجیتا داحیا نے کہا کہ اجازت کا معاملہ تنظیم کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
ان کے مطابق عوامی جذبات احتجاج کو آگے بڑھا رہے ہیں اور اس وقت لوگ خاص طور پر ابھیجیت دیپکے سے منسلک ہیں، اسی لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ وہ خود 6 جون کو پولیس سے اجازت طلب کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی پر امید ہے کہ حکام پرامن احتجاج کے لیے ضروری اجازت دے دیں گے۔
ہندوستان ٹائمز کے مطاقب کاکروچ جناتا پارٹی نے اس سے قبل بھی اعلان کیا تھا کہ ابھیجیت دیپکے دہلی پہنچنے کے بعد خود پولیس سے اجازت حاصل کرنے کے لیے درخواست دیں گے۔
واضح رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی حالیہ ہفتوں میں بھارت میں نوجوانوں کے ایک غیر معمولی احتجاجی رجحان کے طور پر سامنے آئی ہے۔
اس تحریک کا آغاز نوجوانوں کو ”کاکروچ“ کہے جانے کے ردعمل میں ہوا تھا، تاہم بعد ازاں یہ بے روزگاری، امتحانی نظام، پرچہ لیک ہونے کے واقعات اور تعلیمی پالیسیوں کے خلاف ایک وسیع تر احتجاجی مہم میں تبدیل ہوگئی۔
تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے ہیں اور سوشل میڈیا پر انھیں خاصی مقبولیت حاصل ہوئی ہے، جب کہ مبصرین انھیں بھارتی نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور سیاسی اظہار کی نئی شکل قرار دے رہے ہیں۔