وفاقی حکومت کا چھوٹے دکانداروں کے لیے فکس ٹیکس اسکیم لانے کا اعلان

فکس ٹیکس اسکیم کا اطلاق 20 کروڑ روپے یا اس سے کم سالانہ ٹرن اوور والے دکانداروں پر ہوگا: وزیر مملکت
شائع 05 جون 2026 04:58pm

وفاقی حکومت نے چھوٹے دکانداروں کے لیے فکس ٹیکس اسکیم لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ فکس ٹیکس اسکیم تاجروں اور انجم تاجران کی مشاورت سے تیار کی گئی ہے، جس کا اطلاق 20 کروڑ روپے یا اس سے کم سالانہ ٹرن اوور والے دکانداروں پر ہوگا۔

جمعے کو اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی نے اس نئی اسکیم کی تفصیلات بتائیں۔

وزیرِ مملکت نے کہا کہ حکومت چھوٹے دکانداروں کے لیے فکس ٹیکس اسکیم لارہی ہے، فکس ٹیکس اسکیم تاجروں اور انجم تاجران کی مشاورت سے تیار کی گئی، اس آسان اسکیم کا اطلاق ان دکانداروں پر ہوگا، جن کا سالانہ ٹرن اوور 20 کروڑ روپے یا اس سے کم ہوگا، ایک فیصد اس میں فکس ٹیکس ہوگا، 4 زبانوں میں ایک صفحہ کا سادہ فارم موجود ہے، یہ سادہ الفاظ میں اسکیم ہے۔

بلال اظہر کیانی نے کہا کہ فارم جمع کرانے سے پہلے اگر کوئی ودہولڈنگ ٹیکس کٹوتی ہوئی ہے تووہ بھی اس میں ایڈجسٹ ہوگا مگر ایک شرط ہے کہ گوشوارہ جمع کراتے وقت دکاندار کو کم ازکم 25 ہزار روپے نقد جمع کرانا ہوگا، اسکیم میں جو بھی دکاندار آئے گا، یہ ایک اختیاری سکیم ہے یعنی فارم جمع کراکر سکیم سے فائدہ اٹھاسکتا ہے، اگر نارمل آپشن میں رہنا چاہتے ہیں تو بھی رہ سکتے ہیں، ایف بی آر کی طرف سے ایک پلیٹ ملے گی جس پر اس دکاندار کی تفصیلات درج ہوں گی اور ساتھ ہی کیوآر کوڈ ہوگا، اس اسکیم میں نان فائلر اور فائلر دکاندار بھی شامل ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ اس اسکیم سے مستفید ہونے کے لیے ٹیکس کی ادائیگی کم از کم پچھلے سال جتنی ہونی چاہیے، جو بھی دکاندار اس اسکیم میں آئیں گے انہیں پی او ایس سے استثنیٰ مل جائے گا۔

وزیرِ خزانہ محمد اونگزیب نے واضح کیا کہ حکومت کی پالیسی ٹیکس کی شرح بڑھانے کی بجائے اسے کم کرنے کی ہے تاکہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس اسکیم کو حتمی شکل دینے سے پہلے چھوٹے دکانداروں سے باقاعدہ مشاورت کی گئی ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران معاشی صورت حال پر بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے اپنے تمام معاشی چیلنجز کا مقابلہ اپنے ہی وسائل سے کیا ہے اور اس سلسلے میں کسی سے کوئی مدد نہیں لی گئی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال آنے والے بدترین سیلاب کے باوجود ملک میں معاشی استحکام برقرار رہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال اور عالمی دباؤ کے باوجود ہماری معیشت مستحکم رہی، حکومت کا اب پورا زور ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے پر ہے تاکہ ٹیکس نظام میں وسعت لائی جا سکے اور ملکی معیشت کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ معاشی استحکام کا قائم رہنا بہت ضروری ہے، اپنے ملک کی آمدنی کو ایک خاص شرح پر لے کر جانا بہت اہم ہے،  ٹیکس اصلاحات بے تحاشہ ہوئی ہیں، ہم جو قدم اٹھانے جارہے ہیں وہ چھوٹے دکانداروں کے لیے ہے، 30 سے 40 لاکھ چھوٹے دکاندار اس زمرے میں آتے ہیں، سب چاہتے ہیں کہ ملکی وسائل میں اپنا حصہ ملائیں۔

محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ چھوٹے دکانداروں کی مشاورت اور مطالبے کے ساتھ اسکیم لائی جا رہی ہے، ٹیکس دہندگان ٹیکس میں آسانی چاہتے ہیں، جو طبقات اب تک کنٹریبیوشن نہیں کررہے تھے وہ اب خود کو پیش کررہے ہیں تو ہم ان کے شکر گزار ہیں۔

Read Comments