جاسوسی کا خطرہ: پینٹاگون نے اسرائیل کو اعلیٰ ترین واچ لسٹ میں ڈال دیا

پینٹاگون کے ماتحت ادارے ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی نے سات صفحات پر مشتمل دستاویز جاری کی ہے: امریکی میڈیا
شائع 06 جون 2026 10:37am

امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کو اسرائیل کی جانب سے امریکی حکام کی نگرانی اور معلومات حاصل کرنے کی کوششوں پر بڑھتی ہوئی تشویش لاحق ہوگئی ہے، جس کے بعد پینٹاگون نے امریکا میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جاسوسی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسداد جاسوسی خطرے کی سطح کو بلند ترین درجے تک بڑھا دیا ہے۔

امریکی اور سابق امریکی حکام کے مطابق پینٹاگون کی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی (ڈی آئی اے) نے حالیہ ہفتوں میں یہ نئی تشخیص جاری کی۔

حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل پر یہ درجہ بندی اس خدشے کے باعث کی گئی کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات، خصوصاً ایران سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کے اندرونی مشوروں، پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

این بی سی نیوز کے مطابق ڈی آئی اے کی جانب سے تیار کردہ سات صفحات پر مشتمل دستاویز میں اسرائیل کی جاسوسی اور تکنیکی ذرائع سے معلومات اکٹھی کرنے کی صلاحیت کو کریٹیکل لیول قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں متعدد ایسے واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے امریکی حکام کے خدشات میں اضافہ کردیا۔

دوسری جانب واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے نے ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل امریکی اداروں یا امریکی سرکاری حکام کے خلاف جاسوسی نہیں کرتا۔

سفارت خانے کے ترجمان کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس سرگرمیوں کا ہدف اس کے دشمن ہوتے ہیں، اتحادی نہیں، اور اس کے برعکس دعوے یا تو غلط معلومات پر مبنی ہیں یا سیاسی مقاصد کے تحت کیے جا رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے بھی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے، جبکہ پینٹاگون نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ امریکی انٹیلی جنس اداروں کی نگرانی کرنے والے دفتر برائے ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس نے بھی کوئی ردعمل نہیں دیا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ اتحادی اور مخالف ممالک ایک دوسرے پر معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم اسرائیل کی حالیہ سرگرمیاں معمول کی جاسوسی سے کہیں آگے دکھائی دیتی ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ کوئی ایک مخصوص واقعہ خطرے کی سطح بڑھانے کا سبب بنا یا نہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ایران جنگ اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے حوالے سے اختلافات بڑھ گئے ہیں۔

جن میں گذشتہ ہفتے ایک کشیدہ فون کال بھی شامل ہے، جس کے بعد ٹرمپ نے صحافیوں کے سامنے تسلیم کیا تھا کہ انہوں نے اس کال کے دوران نتن یاہو کو پاگل کہا تھا۔

Read Comments