تنخواہ آتے ہی شاپنگ کا جنون؟ خواتین کے لیے پیسے بچانے اور بینک بیلنس بڑھانے کی 5 ترکیبیں
مہینے بھر کی سخت محنت کے بعد جب بینک اکاؤنٹ میں تنخواہ آنے کا میسج ملتا ہے تو خوشی اور خود اعتمادی کا احساس ہونا ایک قدرتی بات ہے. اس موقع پر خریداری کرنے، باہر سے کھانا منگوانے، گھومنے پھرنے یا اپنی پسندیدہ اشیاء خریدنے کا دل چاہتا ہے۔ لیکن اس رقم کو فوری طور پر اڑا دینے کے بجائے کچھ ایسی مالیاتی عادات کو اپنانا ضروری ہے جو ہر ملازمت پیشہ خاتون کو معاشی طور پر مستحکم بنا سکتی ہیں۔
مالی استحکام زیادہ کمانے سے نہیں بلکہ موجودہ آمدنی میں بہتر فیصلے کرنے سے تعلق رکھتا ہے۔ تنخواہ ملتے ہی چند آسان اقدامات کرنے سے خواتین نہ صرف مالی دباؤ سے بچ سکتی ہیں، بلکہ ذہنی سکون اور مالیاتی آزادی حاصل کر سکتی ہیں۔
ضروری اخراجات کو پہلی ترجیح دیں
تنخواہ آتے ہی سب سے پہلا کام اپنے مستقل اور ضروری اخراجات کو پورا کرنا ہونا چاہیے. ان اخراجات میں گھر کا کرایہ، مختلف بل، قرض کی اقساط، راشن، انشورنس یا گھریلو اخراجات شامل ہو سکتے ہیں۔ ایک عام اصول کے تحت کوشش کرنی چاہیے کہ یہ تمام اخراجات آپ کی کل آمدنی کے چالیس سے پچاس فیصد کے اندر رہیں۔
مہینے کے شروع میں ہی یہ ادائیگیاں کرنے سے ذہنی سکون ملتا ہے کیونکہ آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ اب باقی بچنے والی رقم کو کہاں خرچ یا سرمایہ کاری میں لگانا ہے۔ اپنی ذمہ داریوں کو پہلے پورا کرنے سے باقی رقم کو بغیر کسی ذہنی دباؤ اور پچھتاوے کے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ہنگامی فنڈ مستقبل کا تحفظ ہے
زندگی میں غیر متوقع اخراجات، اچانک طبی ضرورت یا ملازمت میں تبدیلی جیسے حالات کسی بھی وقت پیش آ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر خاتون کے لیے ایک ہنگامی فنڈ یعنی ایمرجنسی فنڈ بنانا بے حد ضروری ہے۔
اس مقصد کے لیے اپنی تنخواہ کا بیس سے تیس فیصد حصہ بچانے کی کوشش کرنی چاہیے اور اسے فکسڈ ڈپازٹ یا سیونگز اکاؤنٹ جیسی محفوظ جگہوں پر رکھنا چاہیے. اصل ہدف یہ ہونا چاہیے کہ اس فنڈ میں اتنی رقم موجود ہو جو کم از کم چھ ماہ کے اخراجات کو پورا کر سکے تاکہ مشکل وقت میں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
چھوٹی سرمایہ کاری بھی بڑا فائدہ دے سکتی ہے
اکثر خواتین یہ سوچ کر سرمایہ کاری کا فیصلہ ٹال دیتی ہیں کہ اس کام کے لیے بہت زیادہ رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ کاری کی شروعات بہت معمولی رقم سے بھی کی جا سکتی ہے۔
ہر ماہ محض پانچ سو یا ایک ہزار روپے لگانا بھی ایک بہترین پہلا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ اہم بات بڑی رقم نہیں بلکہ ہر مہینے باقاعدگی سے بچت کرنا ہے۔ جتنی جلدی سرمایہ کاری شروع کی جائے گی، رقم کو بڑھنے کا اتنا ہی زیادہ وقت ملے گا کیونکہ مالیاتی آزادی چھوٹے اور سمجھدار فیصلوں سے ہی شروع ہوتی ہے۔
اپنی خوشیوں کے لیے بھی رقم مختص کریں
سخت محنت کے بعد اپنی تنخواہ کو صرف بلوں اور ذمہ داریوں کی نذر نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس میں سے کچھ حصہ اپنے اوپر بھی خرچ کرنا ضروری ہے۔ اپنے لائف اسٹائل اور ذاتی شوق جیسے باہر کھانا کھانے، خریداری، گھومنے پھرنے یا دیگر چھوٹی خوشیوں کے لیے تنخواہ کا بیس سے تیس فیصد حصہ الگ رکھ دینا چاہیے۔ اس طرح آپ بغیر کسی جرم کے احساس کے اپنی محنت کی کمائی کا لطف اٹھا سکتی ہیں۔ بجٹ بنانے کا مقصد خود پر پابندیاں لگانا نہیں بلکہ آمدنی اور اخراجات کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔
اضافی رقم محفوظ رکھنا بھی ضروری ہے
اس کے علاوہ اپنے بینک اکاؤنٹ میں کچھ رقم ہمیشہ موجود رکھنی چاہیے تاکہ انشورنس کی تجدید، تحائف کی خریداری، گھر کی مرمت یا کسی پلان کے اخراجات آسانی سے پورے کیے جا سکیں۔
یہ اضافی رقم زندگی کو آسان بناتی ہے اور اچانک سامنے آنے والے اخراجات کے وقت ذہنی دباؤ سے بچاتی ہے۔ معاشی طور پر سمجھدار بننے کا مطلب تفریح کو ختم کرنا یا بورنگ زندگی گزارنا نہیں ہے۔
مالیاتی طور پر خود کفیل ہونا ایک عورت کو آزادی اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔ جب ایک عورت دانشمندی سے پیسے بچاتی ہے تو وہ صرف پیسہ نہیں بچا رہی ہوتی بلکہ وہ اپنے محفوظ اور مضبوط مستقبل کی بنیاد رکھ رہی ہوتی ہے۔