سمندر کی لہروں پر تیرتا دنیا کا پہلا جدید شہر

اس شہر کا معاشی نظام چلانے کے لیے کاروباری افراد کو دکانیں اور تجارتی جگہیں لیز پر یا مستقل خریدنے کے لیے دی جائیں گی۔
شائع 06 جون 2026 03:47pm

ذرا تصور کیجیے کہ آپ صبح آنکھ کھولیں تو آپ کا گھر سمندر کے بیچوں بیچ ہو، شام تک آپ کسی اور ملک کے ساحل کے سامنے پہنچ چکے ہوں اور چند ماہ بعد وہی شہر دنیا کے کسی دوسرے حصے میں موجود ہو۔ یہ کسی سائنس فکشن فلم کا منظر نہیں بلکہ ”فریڈم شپ“ نامی ایک ایسے منصوبے کا تصور ہے جسے دنیا کا پہلا تیرتا ہوا شہر کہا جا رہا ہے۔

برطانوی اخبار ”دی ٹیلیگراف“ کے مطابق یہ مستقبل کا ایک ایسا تیرتا ہوا شہر ہوگا جس کی لمبائی تقریباً ایک میل ہوگی اور اس پر بیک وقت 80 ہزار افراد سوار ہو سکیں گے۔ یہ عظیم الجثہ بحری ڈھانچہ آج تک انسان کے بنائے گئے کسی بھی بحری جہاز سے کہیں بڑا ہوگا، جس پر جدید رہائشی مکانات، اسکول، اور اعلیٰ ترین طبی سہولیات سے لیس ہسپتال بھی موجود ہوں گے۔

آج کے دور کے بڑے اور دیو ہیکل کروز شپس بھی اس مجوزہ تیرتے ہوئے شہر کے سامنے محض چھوٹی مچھلیاں دکھائی دیں گے۔ بارہ ارب پاؤنڈ کی لاگت سے تیار ہونے والا یہ 30 منزلہ شاہکار ایک میل طویل اور 800 فٹ چوڑا ہوگا، جس کے اندر ایک ریسرچ ہوسپٹل کے ساتھ ساتھ اتنے اسکول، دکانیں اور ریسٹورنٹ موجود ہوں گے جو انگلینڈ کے ایک پورے شہر کی آبادی کی ضروریات کو پوری کرنے کے لیے کافی ہوں گے۔

تکنیکی ڈھانچہ، گنجائش اور طرزِ زندگی

اس 2.3 ملین گراس ٹن وزنی سمجھے جانے والے دیوہیکل جہاز کو ممکنہ طور پر جوہری توانائی سے چلانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس فکری و تکنیکی شاہکار میں 50 ہزار مستقل رہائشیوں کے لیے رہائشی یونٹس موجود ہوں گے، جبکہ 10 ہزار سیاح اور روزانہ آنے والے مہمان بھی اس کا حصہ بن سکیں گے۔ ان تمام افراد کی دیکھ بھال اور خدمات کے لیے تقریباً 20 ہزار عملے کے ارکان ہمہ وقت موجود رہیں گے۔

تیرتے ہوئے شہر کی تفریحی اور تجارتی زندگی کو متحرک رکھنے کے لیے اس میں کثیر المنزلہ ہوٹل، 15 ہزارنشستوں پر مشتمل ایک اسپورٹس اسٹیڈیم، ایک بڑا کنونشن سینٹر، واٹر پارک، دو میوزیم اور ایک عظیم الشان سمفنی ہال بنایا جائے گا۔ غوطہ خوروں کے لیے ایک بہت بڑا ایکویریم ہوگا، جبکہ رات کی رونقوں کو پسند کرنے والوں کے لیے ڈانس کلب بھی موجود ہوگا۔ یہاں کے تجارتی مراکز میں دکانیں، مالیاتی ادارے اور بینک چار الگ منزلوں پر پھیلے ہوں گے، جبکہ جہاز کی سب سے اوپری سطح پر آٹھ ہیلی پیڈز بھی تعمیر کیے جائیں گے۔

یہ عظیم الجثہ شہر جامد رہنے کے بجائے مسلسل حرکت میں رہے گا اور انتہائی پروقار رفتار سے چلتے ہوئے ہر دو سال میں دنیا کا ایک چکر مکمل کرے گا۔ اپنے بے پناہ حجم کی وجہ سے یہ دنیا کی کسی بھی بندرگاہ پر لنگر انداز نہیں ہو سکے گا، اس لیے یہ مستقل طور پر بین الاقوامی پانیوں میں رہے گا اور مسافروں کو زمین سے لانے اور لے جانے کے لیے فیریز کا ایک پورا بیڑا استعمال کیا جائے گا۔

تین دہائیوں پر محیط ایک خواب کی واپسی

فریڈم شپ کا یہ فکری تصور اگرچہ ابھی حقیقت کا روپ دھارنے اور تعمیراتی مراحل سے گزرنے کا منتظر ہے، لیکن یہ خیال نیا نہیں ہے۔ اسے پہلی بار 1990 کی دہائی میں ایک امریکی انجینئر نارمن نکسن نے پیش کیا تھا، جن کا انتقال 2012 میں ہوا۔ ان کی موت کے اگلے سال اس کے بلیو پرنٹس کو دوبارہ عوام کے سامنے لایا گیا، مگر مالیاتی مسائل کے باعث اسے ایک بار پھر روک دیا گیا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ منصوبہ دوبارہ کیوں منظرِ عام پر آیا؟ اس کی وجہ ”فریڈم کروز لائن انٹرنیشنل“ کے چیف ایگزیکٹو راجر گوچ ہیں، جنہوں نے بارہ ماہرین پر مشتمل ایک مضبوط ٹیم تشکیل دی ہے جس میں پروجیکٹ منیجر، ڈیزائنر اور نیول آرکیٹیکٹ شامل ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مارکیٹ میں اس کی مانگ اتنی شدید ہے کہ وہ تین ایسے جہاز بنانے کا جواز پیش کر سکتے ہیں، بس اب بنیادی مرحلہ اس کے لیے ابتدائی سرمایہ اکٹھا کرنا ہے۔

سمندر کے بیچوں بیچ تعمیر اور معاشی ماڈل

سرمائے کی فراہمی یقینی ہونے کے بعد، اگلا قدم انڈونیشیا میں اس کی تعمیر کا آغاز ہوگا، جہاں سب سے پہلے اس کے نچلے حصے یعنی ہُل کو مختلف ٹکڑوں میں بنا کر سمندر کے اندر ہی جوڑا جائے گا۔ گوچ کے مطابق، اگرچہ اس کی مکمل تیاری میں تین سے چار سال لگ سکتے ہیں، لیکن لوگ تعمیر کے درمیانی عرصے ہی میں اس پر رہائش اختیار کرنا شروع کر سکتے ہیں۔

اس جہاز کی دیکھ بھال اور مرمت کا تمام تر کام بھی سمندر میں سفر کے دوران ہی مستقل بنیادوں پر کیا جائے گا کیونکہ اس کا کوئی مستقل ہوم پورٹ نہیں ہوگا۔ اس شہر کا معاشی نظام چلانے کے لیے کاروباری افراد کو دکانیں اور تجارتی جگہیں لیز پر یا مستقل خریدنے کے لیے دی جائیں گی، بالکل ویسے ہی جیسے زمین پر بنے معاشروں میں ہوتا ہے۔ ہولڈنگ کمپنی صرف چند مخصوص کاروبار جیسے کہ کیسینو کو اپنے پاس رکھے گی۔

اس کے علاوہ، یہاں ایک جدید ترین ہسپتال قائم کیا جائے گا، جس کے لیے دنیا کے بڑے طبی تحقیقی اداروں نے رابطہ کیا ہے، کیونکہ بین الاقوامی پانیوں میں ہونے کی وجہ سے یہ شہر روایتی حکومتی ضابطوں اور ریگولیٹری اداروں کی گرفت سے باہر ہوگا، جو طبی تحقیق کے لیے ایک بہترین اور آزاد ماحول فراہم کرے گا۔

ماحول دوستی اور فنِ تعمیر کا امتزاج

اس عظیم منصوبے کا ایک انسان دوست اور ماحولیاتی پہلو بھی ہے۔ راجر گوچ کا دعویٰ ہے کہ یہ جہاز سمندروں کا سفر کرتے ہوئے ان کی صفائی کا کام بھی کرے گا، اور نیوکلیئر پاور کے استعمال کی وجہ سے کاربن کے اخراج کو نہ ہونے کے برابر کر دے گا، جس سے یہ ثابت ہوگا کہ یہ ایک ماحول دوست اور دنیا کے لیے فائدہ مند منصوبہ ہے۔

اس پروجیکٹ کے ماسٹر پلانر کیون شوپفر ہیں، جو آرکولوجی کے ماہر ہیں، جو کہ آرکیٹیکچر اور ماحولیات کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔ انہوں نے جہاز کو ایک بے ڈھنگے لوہے کے بلاک کے بجائے بصری طور پر ایک پرسکون اور خوبصورت شکل دی ہے، جس کے کناروں کو نرم رکھا گیا ہے۔ یہ ڈریم سٹی سانس لیتا ہوا محسوس ہو اس مقصد کے لیے اس میں پارکوں اور پیدل چلنے والے راستوں کو کثرت سے شامل کیا گیا ہے۔

موجودہ دور کے جہازوں سے موازنہ اور مستقبل کی امید

اگر اس کا موازنہ آج کے دور کے سب سے بڑے مسافر بردار بحری جہاز ”اسٹار آف دی سیز“ سے کیا جائے، تو فریڈم شپ اس کے مقابلے میں آٹھ گنا زیادہ مسافروں کو لے جانے کی صلاحیت رکھے گا۔ اگرچہ ماضی میں ایسے کئی رہائشی بحری جہازوں کے منصوبے پیش کیے گئے، لیکن اب تک صرف ”دی ورلڈ“ اور ”ویلا وی اوڈیسی“ جیسے چند جہاز ہی سمندر میں اتر پائے ہیں۔

تاہم، سنگاپور کے بلوم گروپ سے تعلق رکھنے والے پروجیکٹ منیجر سری دیو مکھرجی اس کام کی وسعت اور چیلنجز سے بالکل خوفزدہ نہیں ہیں۔ وہ لندن میں ایک گفتگو کے دوران اپنے تیس سالہ بحری تجربے کی روشنی میں کہتے ہیں کہ انسانی دنیا میں استقامت اور پختہ عزم ہی سے بڑی کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ اگر صبر اور لگن کے ساتھ کوششیں جاری رکھی جائیں، تو اس شاندار اور فکری تصور کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے آسمان بھی کوئی حد نہیں ہے۔

Read Comments