آزاد کشمیر پولیس نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مرکزی دفتر سیل کردیا

پولیس کی جانب سے تلاشی کے دوران ایک سب مشین گن، ایک بارہ بور رائفل اور ایک پستول برآمد ہوئی ہے۔
اپ ڈیٹ 07 جون 2026 07:25pm

آزاد کشمیر پولیس نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کا مرکزی دفتر سیل کردیا ہے۔

آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے ایکشن کمیٹی کے روپ میں سرگرم انتشاری ٹولے کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں اور ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کالعدم انتشاری کمیٹی جے اے اے سی کے مرکزی دفتر کو ریاست مخالف سرگرمیوں پر سیل کر دیا ہے۔

پولیس کی جانب سے دفتر کی تلاشی کے دوران ایک سب مشین گن، ایک بارہ بور رائفل اور ایک پستول برآمد ہوئی ہے جب کہ برآمد ہونے والے اسلحے کو تحویل میں لے کر مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

چھاپے کے وقت مرکزی دفتر کے باہر عوام کی بڑی تعداد موجود تھی تاہم کارروائی کے دوران کسی قسم کا احتجاج، ہنگامہ آرائی یا نعرے بازی دیکھنے میں نہیں آئی اور صورت حال پرامن رہی۔

حکومتی مؤقف کے مطابق کالعدم قرار دی گئی کمیٹی کے خلاف کارروائیاں قانون کی عملداری اور ریاستی رٹ کے قیام کے لیے کی جا رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق چھاپے کے دوران اسلحے کی برآمدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ٹولہ نام نہاد عوامی حقوق کی آڑ میں انتشار پھیلانے کے درپے ہے، ریاستی رٹ کے نفاذ، قانون کی حکمرانی اورعوامی نظم و ضبط کے تحفظ کے لیے ایسی قانونی کارروائیاں ناگزیر ہوتی ہیں۔

جے اے اے سی کے بیشتر مطالبات تسلیم کرلیے: طارق فضل چوہدری

دوسری جانب وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات تسلیم کرلیے گئے لیکن کوئی منصوبہ چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتا جب کہ مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ آئینی معاملہ ہے، چند لوگ بند کمرے میں بیٹھ کر ان نشستوں کو ختم نہیں کر سکتے۔

اتوار کو سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ کسی بھی مسئلے کا حل تشدد نہیں بلکہ مذاکرات سے ہی ہر مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے۔

طارق فضل چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران 4 اکتوبر کے معاہدے کی ایک ایک شق پڑھ کر سنائی اور اس پر تفصیل سے بتایا کہ کن کن معاملات پر کتنی پیشرفت ہو چکی ہے۔

وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے الزام عائد کیا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی نے آزاد کشمیر میں صورت حال کو بگاڑنے کی کوشش کی حالانکہ ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی بیشتر شقوں پر عملدرآمد کیا جا چکا ہے جب کہ کچھ پر کام جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر اسمبلی اپنی آئینی مدت پوری کر چکی ہے اور ایسے وقت میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے ایکشن کمیٹی کے وہ مطالبات بھی تسلیم کیے جو کسی جتھے کے دباؤ پر نہیں مانے جانے چاہئیں تھے۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ آزاد کشمیر میں عوام کو 3 روپے فی یونٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے جب کہ آٹے پر بھی سبسڈی دی جا رہی ہے، جس سے عوام کو ریلیف ملا ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ مذاکرات اور بات چیت ہی مسائل کے حل کا واحد راستہ ہیں اور یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان اور آزاد کشمیر کو 2 مختلف اکائیاں ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے یا پھر آزاد کشمیر کے عوام کو مہاجرین سے متنفر کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے پاکستان اور کشمیری عوام آخری حد تک جائیں گے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس وقت آزاد کشمیر میں امن و امان کی خراب صورت حال پیدا کرنا کس کے مفاد میں ہے۔

طارق فضل چوہدری نے واضح کیا کہ ٹنلز کی تعمیر سمیت کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتا، اس لیے معصوم لوگوں کی جانوں کے ساتھ کھیلنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مہاجرین کی 12 نشستیں ایک کمرے میں بیٹھ کر ختم نہیں کی جا سکتیں کیوں کہ یہ ایک آئینی معاملہ ہے۔

واضح رہے کہ جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو ریاست بھر میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے جب کہ حکومت نے ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

Read Comments