آبادکاری منصوبے: برطانیہ کا اسرائیل پر نئی پابندیوں پر غور
برطانیہ نے اسرائیل کے مغربی کنارے میں متنازع ای ون آبادکاری منصوبے کو روکنے کے لیے نئی پابندیوں کی تیاری شروع کردی۔ مجوزہ اقدامات کا مقصد ان کمپنیوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جو اس منصوبے میں حصہ لے سکتی ہیں، جبکہ برطانوی حکمران جماعت لیبر کے 137 ارکانِ پارلیمنٹ نے بھی حکومت سے اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت ختم کرنے سمیت فوری اور ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
برطانوی اخبار دی گارجین کے مطابق برطانیہ اور متعدد مغربی ممالک رواں ہفتے اسرائیل کے خلاف پابندیوں کے ایک نئے پیکیج کا اعلان کر سکتے ہیں، جس کا مقصد مقبوضہ مغربی کنارے میں مجوزہ ای ون (E1) آبادکاری منصوبے کو آگے بڑھنے سے روکنا ہے۔
برطانیہ، فرانس اور آسٹریلیا سمیت نو ممالک پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد کو روکا جائے اور کوئی بھی کمپنی ای ون منصوبے میں شریک نہ ہو۔
اسرائیلی حکام نے حال ہی میں یروشلم اور معالیہ ادومیم کے درمیان تین ہزار سے زائد نئے گھروں کی تعمیر کے لیے ٹینڈرز جاری کیے ہیں۔ ناقدین کے مطابق اس منصوبے سے مغربی کنارہ شمالی اور جنوبی حصوں میں تقسیم ہو جائے گا، جس کے نتیجے میں مستقبل کی فلسطینی ریاست کا تصور تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔
دوسری جانب برطانوی پارلیمنٹ میں لیبر پارٹی کے 137 ارکان نے وزیر خارجہ یوویٹ کوپر کو خط لکھ کر فلسطینیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی کارروائیوں اور آبادکاروں کے تشدد کے خلاف فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ خط میں اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
خط پر دستخط کرنے والوں میں سابق وزیر صحت ویس سٹریٹنگ، سابق وزیر جیس فلپس اور خارجہ امور کی پارلیمانی کمیٹی کی چیئرپرسن ایملی تھورن بیری سمیت متعدد اہم شخصیات شامل ہیں۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کی جانب سے خان الاحمر کے فلسطینی بدوؤں کو بے دخل کرنے کے اقدامات اور ای ون منصوبہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور دو ریاستی حل کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ برطانوی حکومت نے فروری 2026 میں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور ممکنہ الحاق کے خطرات کے خلاف ”ٹھوس اقدامات“ کا وعدہ کیا تھا، تاہم اس کے بعد صورتحال مزید خراب ہوئی ہے اور حکومت نے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا۔
ارکانِ پارلیمنٹ نے اسپین کی مثال دیتے ہوئے برطانیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں سے آنے والی مصنوعات پر پابندی عائد کرے۔ آئرلینڈ، نیدرلینڈز اور بیلجیئم بھی اسی نوعیت کی قانون سازی پر غور کر رہے ہیں۔
خط میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دیگر ممالک کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق اسرائیل کے ساتھ تجارتی معاملات سے گریز کرنا چاہیے، جس کا اطلاق غیر قانونی بستیوں کی تجارت پر بھی ہوتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق برطانیہ کی مجوزہ پابندیوں میں ان کمپنیوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جو ای ون منصوبے میں سرمایہ کاری یا تعمیراتی سرگرمیوں میں شریک ہوں۔ اس کے علاوہ آبادکاروں کے تشدد کی حمایت کرنے والے اداروں اور افراد پر بھی مزید پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس برطانیہ اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر اور وزیر خزانہ بیزالیل سموٹریچ پر پابندیاں عائد کر چکا ہے۔ تاہم یورپی یونین اندرونی اختلافات کے باعث ایسی پابندیوں پر متفق نہیں ہو سکی۔
اُدھر فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ نہ صرف آبادکاروں کے تشدد میں ملوث افراد بلکہ ان کمپنیوں اور اداروں پر بھی پابندیاں عائد کی جائیں جو فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
دوسری جانب غزہ میں جنگ بندی کی کوششیں بھی جاری ہیں اور قاہرہ میں حماس، مصر، قطر اور ترکی کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہو رہے ہیں۔ حماس کا کہنا ہے کہ کسی بھی پیش رفت کے لیے غزہ پر اسرائیلی حملوں کا خاتمہ ضروری ہے۔