یمن کا بحیرہ احمر میں اسرائیلی جہازوں کے داخلے پر 'مکمل پابندی' کا اعلان
یمن کے حوثیوں نے اسرائیل پر میزائل حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے بحیرہ احمر میں اسرائیلی جہاز رانی پر مکمل پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے عالمی تجارت کے لیے اہم سمندری راستے میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر خلل کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
حوثی باغیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ ساری نے اسرائیلی جہازوں کے داخلے پر مکمل پابندی کا اعلان کیا ہے۔
یحییٰ ساری کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ اس اعلان کے بعد دشمن کی تمام نقل و حرکت کو ان کی مسلح افواج کے لیے جائز فوجی ہدف تصور کیا جائے گا۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے دوران حوثیوں نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو متعدد بار نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں کئی عالمی شپنگ کمپنیوں کو جنوبی افریقہ کے جنوبی سرے کے گرد طویل متبادل راستہ اختیار کرنا پڑا تھا۔
حوثیوں کی یہ دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیج فارس کے داخلی راستے آبنائے ہرمز پر ایران کی جانب سے مغربی ایشیا میں امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے نتیجے میں ناکہ بندی برقرار ہے، جس سے توانائی برآمد کرنے والے ممالک متاثر ہو رہے ہیں۔
حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اسرائیلی دشمن کے حساس اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے میزائلوں کی بارش کی اور یہ حملے اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب رہے۔ ان کے مطابق حملوں نے اپنے اہداف کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اس سے قبل ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا تھا کہ یمن سے اسرائیلی علاقے کی جانب ایک میزائل داغے جانے کی نشاندہی ہوئی ہے اور فضائی دفاعی نظام اس خطرے کو ناکام بنانے کے لیے کارروائی کر رہے ہیں۔
حوثیوں نے مارچ میں ایران کی حمایت میں مغربی ایشیا کی جنگ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ 8 اپریل کو شروع ہونے والی نازک جنگ بندی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ حوثیوں نے اسرائیل پر میزائل حملے کا اعلان کیا ہے۔
یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب پیر کو اسرائیل اور ایران کے درمیان ایک بار پھر حملوں کا تبادلہ ہوا، جس سے جنگ بندی مزید دباؤ کا شکار ہوئی اور امن معاہدے کی امیدوں کو بھی خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔