جنگ بندی مسودے میں خطے کے تمام علاقوں کو شامل کیا جائے گا: امیر سعید
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی سے متعلق حتمی مسودے پر بات چیت جاری ہے، تاہم ابھی تک کسی حتمی اتفاق رائے تک نہیں پہنچا جا سکا۔
اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر امیر سعید کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے مجوزہ مسودے اور دونوں فریقوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کا تبادلہ پاکستان کے ذریعے کیا گیا، جس نے رابطہ کاری اور سفارتی پیغامات کی ترسیل میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے بتایا کہ مجوزہ حتمی مسودے میں خطے کے تمام متعلقہ علاقوں کو شامل کیا جائے گا، جبکہ لبنان سمیت دیگر خطوں سے متعلق امور بھی دستاویز کا حصہ ہوں گے تاکہ ایک جامع اور پائیدار فریم ورک تشکیل دیا جا سکے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کسی بھی بحری ناکا بندی کو دشمن کی ایک اور شکست میں تبدیل کر دے گا۔
اپنے بیان میں باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ مفاہمتی یادداشت سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات متفقہ نکات کے برعکس تھے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال سے واضح ہے کہ امریکا نہ جنگ بندی چاہتا ہے اور نہ ہی مذاکرات کا خواہاں ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے مزید کہا کہ ایران کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کا قیام ہے۔
باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ ایران کو مخالف فریق پر بھروسہ نہیں، تاہم ملک اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہے گا۔