فیفا ورلڈ کپ: امریکی حکام نے مسلمان ریفری کو ملک میں داخلے سے روک دیا
امریکی امیگریشن حکام نے فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے لیے فیفا کے نامزد کردہ صومالی ریفری عمرعبدالقادر آرتان کو میامی ایئرپورٹ پر روک دیا اور واپس بھیج دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، صومالیہ سے تعلق رکھنے والے مایہ ناز ریفری عمر عبدالقادر آرتان عالمی کپ میں اپنی پروفیشنل ذمہ داریاں نبھانے کے لیے امریکا پہنچے تھے۔ تاہم، میامی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ کرتے ہی امریکی حکام نے انہیں ملک میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور فوری طور پر ترکیہ جانے والی پرواز پر واپس بٹھا دیا۔
اس کارروائی پر صومالیہ کے سفارتی حلقوں میں بھی گہری تشویش پائی جاتی ہے، کیونکہ عمر عبدالقادر آرتان کو ان کی بہترین پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بنیاد پر سال 2025 کا بہترین افریقی ریفری تسلیم کیا گیا تھا اور صومالی حکومت نے ایونٹ کی اہمیت کے پیش نظر اپنے اس اسٹار ریفری کو خصوصی طور پر سفارتی پاسپورٹ بھی جاری کر رکھا تھا، جس کے باوجود انہیں ڈی پورٹ کر دیا گیا۔
یہ غیر متوقع صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کھیلوں کی دنیا کا سب سے بڑا میگا ایونٹ شروع ہونے والا ہے۔ فٹبال کے اس عالمی دنگل کا باقاعدہ آغاز 12 جون سے ہو رہا ہے اور ٹورنامنٹ کی تاریخ میں پہلی بار تین ممالک یعنی امریکا، میکسیکو اور کینیڈا مشترکہ طور پر اس کی میزبانی کر رہے ہیں۔
یہ فٹبال کی تاریخ کا پہلا ورلڈ کپ ہے جس میں ٹیموں کی تعداد بڑھا کر 48 کر دی گئی ہے، جنہیں 12 مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ 4 ٹیموں پر مشتمل ہے۔ اس نئے فارمیٹ کے تحت ٹورنامنٹ کے دوران دنیا بھر کے شائقین کو ریکارڈ 104 میچز کا سنسنی خیز مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔
ایک ایسے تاریخی ٹورنامنٹ سے ٹھیک پہلے، فیفا کے نامزد کردہ اور افریقہ کے ٹاپ ریفری کے ساتھ ایسا سلوک امریکی امیگریشن پالیسیوں اور فیفا کے انتظامات پر کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔