ایران نے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا، امریکا جواب دے گا: صدر ٹرمپ

امریکی صدر کے مطابق آبنائے ہرمز میں گشت کے دوران حملہ ہوا، دونوں پائلٹ محفوظ رہے۔
شائع 09 جون 2026 11:04pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے اوپر گشت کرنے والے ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق واقعے میں سوار دونوں پائلٹ محفوظ رہے تاہم امریکا اس حملے کا جواب دے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا کہ انہیں امریکی فوج کی جانب سے اطلاع دی گئی ہے کہ گزشتہ رات ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز کے اوپر گشت کرنے والے ایک جدید امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا۔

ٹرمپ کے مطابق ہیلی کاپٹر میں دو پائلٹ سوار تھے اور دونوں محفوظ ہیں، انہیں کوئی چوٹ نہیں آئی۔

امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ اس حملے کے جواب میں امریکا کو کارروائی کرنا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ضرورت کے تحت امریکا کو اس حملے کا جواب دینا ہوگا۔‘‘

ٹرمپ نے واقعے کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں اور نہ ہی فوری طور پر امریکی فوج کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری کیا گیا۔

واضح رہے کہ امریکی اخبار دی نیو یارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اپاچی ہیلی کاپٹر ایرانی فائرنگ کا نشانہ بنا، کسی فنی خرابی کا شکار ہوا یا کسی اور وجہ سے حادثے کا شکار ہوا، واقعہ پیر کے روز پیش آیا۔

امریکی اخبار کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور حتمی وجہ کا تعین تاحال نہیں کیا جاسکا۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں گزشتہ چند روز کے دوران کشیدگی میں اضافہ اور پھر نسبتاً کمی دیکھنے میں آئی۔

اسرائیل اور ایران کے درمیان فوجی حملوں کے تبادلے کے بعد دونوں ممالک نے وقتی طور پر پیچھے ہٹنے کا راستہ اختیار کیا، جس سے جنگ بندی کی نازک صورت حال ایک بار پھر نمایاں ہوگئی۔

خیال رہے کہ رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو زیادہ تر تجارتی بحری آمدورفت کے لیے مؤثر طور پر بند کیے جانے کے بعد خطے میں اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ اس مقصد کے لیے اپاچی ہیلی کاپٹروں کے علاوہ مسلح ایم کیو-9 ریپر ڈرونز، ایف/اے-18 اور ایف-35 جنگی طیارے بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ سینٹ کام نے سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر جاری کی تھیں جن میں کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر آبنائے ہرمز یا اس کے قریبی سمندری علاقوں کے اوپر پرواز کرتے دکھائی دیے تھے۔

یہ پرواز امریکی بحریہ کے ایک مختصر آپریشن پروجیکٹ فریڈم سے قبل کی گئی تھی، جس کا مقصد تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے میں مدد فراہم کرنا تھا۔

ایران کی جانب سے ناکا بندی کے جواب میں امریکا نے 13 اپریل کو اپنی جوابی پابندیاں عائد کرتے ہوئے تجارتی جہازوں کے ایرانی بندرگاہوں میں داخلے اور وہاں سے روانگی پر پابندی لگا دی تھی۔

Read Comments