عمانی ساحل کے قریب بھارتی بحری جہاز پر حملہ، بھارت نے امریکا کو ذمہ دار ٹھہرا دیا
بھارت اور امریکا کے درمیان تعلقات میں اس وقت تناؤ پیدا ہوگیا جب بھارتی حکام نے عمان کے ساحل کے قریب اپنے تجارتی بحری جہاز ’سیٹے بیلو‘ پر ہونے والے حملے کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیتے ہوئے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کی وزارتِ خارجہ نے واقعے کے بعد نئی دہلی میں تعینات امریکی مشن کے ڈپٹی چیف کو طلب کیا اور بھارتی جہاز کو نشانہ بنانے پر شدید تحفظات اور احتجاج سے آگاہ کیا۔
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حملے کے نتیجے میں عمان کے ساحل کے قریب موجود بھارتی بحری جہاز میں آگ بھڑک اٹھی، جس کے بعد ہنگامی امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں۔
ریسکیو ٹیموں نے جہاز میں موجود عملے کے 20 ارکان کو بحفاظت نکالا۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق واقعے کے بعد عملے کے تین ارکان تاحال لاپتا ہیں، جبکہ ان کے زندہ بچ جانے کے امکانات کم ہونے کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ ہلاک ہوچکے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور امریکا سے حملے کی وضاحت طلب کی گئی ہے۔ دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے تاحال بھارتی الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
تاہم امریکی فوج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ خلیجِ عمان میں موجود ٹینکر کے انجن روم پر انتہائی درست نشانہ بنانے والے ہتھیار استعمال کیے گئے، جس کے نتیجے میں جہاز کو ناکارہ بنا دیا گیا۔
امریکی فوج کے مطابق جہاز کے عملے نے امریکی فورسز کی ہدایات پر عمل نہیں کیا تھا۔
جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے پلیٹ فارم میرین ٹریفک کے مطابق سیٹے بیلو جزوی طور پر سامان سے لدا ہوا تھا اور اسے آخری بار یکم جون کو عمان کے ساحل کے قریب دیکھا گیا تھا۔
خیال رہے کہ امریکا نے 13 اپریل کو ایران سے متعلق بحری نقل و حمل کے خلاف ناکہ بندی کا آغاز کیا تھا، جس کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کو شدید حد تک محدود کر دیا تھا۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم بحری راستہ تصور کی جاتی ہے۔