کیمیکلز کے بغیر گھر پر کچے آم کو پکانے کے آسان اور قدرتی طریقے
آموں کا سیز ن اپنے عروج پر ہے۔ یہ رسیلا پھل اپنی مٹھاس اور لاجواب ذائقے کی وجہ سے بچوں اور بڑوں سب کا پسندیدہ مانا جاتا ہے۔ لیکن اکثر مارکیٹ میں ایسے آم ملتے ہیں جو پوری طرح پکے نہیں ہوتے کیونکہ انہیں دور دراز علاقوں تک پہنچانے اور خراب ہونے سے بچانے کے لیے کچا ہی توڑ لیا جاتا ہے۔ کچھ دکاندار ان آموں کو جلدی پکانے کے لیے نقصان دہ کیمیکلز کا استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اب گھر پر ہی آموں کو قدرتی طریقے سے پکانے کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ پھل کا اصل ذائقہ برقرار رہے۔
گھر میں آموں کو بغیر کسی کیمیکل کے پکانا نہ صرف آسان ہے بلکہ اس سے پھل کی قدرتی مٹھاس اور خوشبو بھی بہتر انداز میں برقرار رہتی ہے۔ یہ طریقہ صحت کے لیے بالکل محفوظ ہے، خصوصاً ان خاندانوں کے لیے جو اپنے بچوں کو کیمیکل سے پاک غذا دینا چاہتے ہیں۔
اگر آپ نے کچے یا نیم پکے آم خریدے ہیں تو چند آسان گھریلو طریقوں سے انہیں چند دنوں میں مکمل طور پر پکایا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب آم قدرتی طور پر پک جاتا ہے تو اس کی پہچان بہت آسان ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پکے ہوئے آم کی ڈنڈی کے پاس سے ایک میٹھی اور پھل دار خوشبو آنے لگتی ہے اور جب اسے نرمی سے دبایا جائے تو وہ ہلکا سا نرم محسوس ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ آم کی قسم کے لحاظ سے اس کی رنگت بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔ تاہم آم کو بہت زور سے نہیں دبانا چاہیے کیونکہ اس سے پھل خراب ہو سکتا ہے۔ ایک بار جب آم اچھی طرح پک جائے تو اسے تازہ رکھنے کے لیے چند دن فریج میں بھی رکھا جا سکتا ہے۔
گھر پر آم پکانے کا پہلا اور مقبول طریقہ کاغذی تھیلے کا استعمال ہے۔ اس طریقے میں کچے آموں کو بھورے رنگ کے کاغذی تھیلے یعنی پیپر بیگ میں رکھ کر اس کا منہ ہلکا سا بند کر دیا جاتا ہے۔ یہ تھیلا آم سے نکلنے والی قدرتی ایتھلین گیس کو اندر ہی روک لیتا ہے جو پھل کو جلدی پکنے میں مدد دیتی ہے۔ اس طریقے سے آم دو سے چار دنوں میں تیار ہو جاتے ہیں۔
دوسرا روایتی طریقہ یہ ہے کہ آموں کو کچے چاولوں کے کنٹینر یا ڈبے میں چھپا کر رکھ دیا جائے۔ چاولوں کے اندر موجود گرمی آم کے پکنے کے عمل کو تیز کر دیتی ہے اور اس طریقے سے محض دو سے تین دنوں میں آم کھانے کے قابل ہو جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ اخبار میں لپیٹ کر رکھنا بھی ایک پرانا اور آزمودہ طریقہ ہے۔ ہرآم کو الگ الگ اخبار کے کاغذ میں لپیٹ کر کسی گرم اور خشک جگہ پر رکھ دیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ روایتی طریقہ آم کو آہستہ آہستہ اور ہر طرف سے برابر پکانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، جس میں تین سے پانچ دن لگ سکتے ہیں۔
چوتھا طریقہ یہ ہے کہ کچے آموں کو کسی ٹوکری میں پہلے سے پکے ہوئے کیلوں یا دوسرے پکے ہوئے پھلوں کے ساتھ رکھ دیا جائے۔ چونکہ پکے ہوئے پھل قدرتی طور پر ایتھلین گیس خارج کرتے ہیں، اس لیے ان کے پاس رکھنے سے کچے آم بھی دو سے چار دنوں میں پک جاتے ہیں۔
اگر آپ ان میں سے کوئی بھی طریقہ استعمال نہیں کرنا چاہتے تو سب سے آسان حل یہ ہے کہ آموں کو کمرے کے درجہ حرارت پر کسی صاف ٹوکری میں رکھ دیں اور ٹوکری کو دھوپ سے دور گھر کے کسی گرم کونے میں ٹکائیں۔ گرم ماحول کی وجہ سے آم چار سے سات دنوں میں خود بخود پک کر تیار ہو جائیں گے۔
ان سادہ اور قدرتی طریقوں کو اپنا کر مارکیٹ کے زہریلے کیمیکلز سے بچا جا سکتا ہے اور آم کے حقیقی ذائقے اور خوشبو سے لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔