امریکا میں بسے ایرانیوں کو غریب ترین افریقی ملک بھیجنے کی تیاری

امریکی محکمہ خارجہ اور وسطی افریقی جمہوریہ کی صدارت نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا: رائٹرز
شائع 12 جون 2026 09:43am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ متعدد ایرانی شہریوں اور دیگر تارکینِ وطن کو امریکا سے وسطی افریقی جمہوریہ بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس معاملے سے آگاہ دو وکلا اور ایک سرکاری اہلکار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے۔

رائٹرز کے مطابق وکلا نے بتایا ہے کہ ان ایرانیوں میں دو خواتین بھی شامل ہیں جنہیں ایران واپس بھیجے جانے کی صورت میں تشدد، ظلم و ستم اور ممکنہ طور پر اذیت رسانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ان خواتین کی وکیل ایملی ٹروسٹل نے بتایا کہ ان میں سے ایک خاتون عیسائیت قبول کر چکی ہیں جبکہ دوسری جمہوریت نواز کارکن ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ اور وسطی افریقی جمہوریہ کی صدارت نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا۔

وسطی افریقی جمہوریہ نے حال ہی میں امریکا کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت وہ تیسرے ممالک کے جلاوطن افراد کو قبول کرے گا۔

ایملی ٹروسٹل کے مطابق دونوں خواتین نومبر 2024 میں امریکا پہنچنے کے بعد حراست میں لے لی گئی تھیں۔ انہوں نے امریکا میں سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی اور بعد ازاں امریکی امیگریشن جج کی جانب سے انہیں وتھ ہولڈنگ آف ریموول نامی قانونی تحفظ حاصل ہو گیا تھا۔

اس قانونی تحفظ کے حصول کا مطلب یہ تھا کہ ججوں نے یہ قرار دیا تھا کہ ایران واپسی کی صورت میں انہیں 50 فیصد سے زیادہ خطرہ لاحق ہے کہ وہ ظلم و ستم یا تشدد کا نشانہ بن سکتی ہیں۔

معاملے سے آگاہ ایک اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ وسطی افریقی جمہوریہ بھیجے جانے والی پہلی پرواز میں تقریباً 20 افراد سوار ہوں گے جن میں ایرانیوں کے علاوہ شامی اور افغان شہری بھی شامل ہوں گے۔ دو وکلا کے مطابق یہ طیارہ جمعرات کے روز ہی روانہ ہو سکتا ہے۔

ایک ترک شہری، جو سیاسی جبر سے بچنے کے لیے اپنے ملک سے فرار ہوا تھا اور جسے بھی ”وتھ ہولڈنگ آف ریموول“ کا تحفظ حاصل ہے، اس پرواز میں شامل ہو سکتا ہے۔ اس شخص کے وکیل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ معلومات فراہم کیں۔

ٹرمپ انتظامیہ ایسے تیسرے ممالک کے ساتھ معاہدوں کا استعمال کر رہی ہے جہاں ان افراد کو بھیجا جا سکتا ہے جنہیں قانونی وجوہات کی بنا پر ان کے آبائی ممالک واپس نہیں بھیجا جا سکتا۔ ایسے معاہدوں میں وسطی افریقی جمہوریہ کے پڑوسی ملک جمہوریہ کانگو بھی شامل ہے، جہاں اس وقت ایبولا کی وبا کے پھیلنے کی اطلاعات ہیں۔

واشنگٹن نے ان معاہدوں کو قانونی قرار دیا ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں اور تارکینِ وطن کے حامی گروپوں کا کہنا ہے کہ ان معاہدوں کی تفصیلات واضح نہیں ہیں اور کئی جلاوطن افراد بالآخر اپنے اصل ممالک واپس بھیج دیے جاتے ہیں۔

معاملے سے واقف اہلکار کے مطابق جلاوطن افراد کو وسطی افریقی جمہوریہ کے دارالحکومت بنگوئی میں اپارٹمنٹس میں رکھا جائے گا اور انہیں فوری طور پر ان کے آبائی ممالک واپس بھیجنے کا ارادہ نہیں ہے۔

اہلکار نے مزید بتایا کہ اس معاہدے کے تحت بالآخر سینکڑوں تارکینِ وطن کو وسطی افریقی جمہوریہ منتقل کیا جا سکتا ہے۔

ایرانی امریکن لیگل ڈیفنس فنڈ کے قائم مقام قانونی ڈائریکٹر علی رہنما نے اس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عین اس وقت جب امریکا ایرانی عوام کو آزادی اور اسلامی جمہوریہ کے خلاف کھڑے ہونے کی حمایت کا یقین دلا رہا ہے، وہ اسی حکومت سے فرار ہونے والے ایرانی پناہ گزینوں کو تباہی کی جانب دھکیل رہا ہے۔

علاوہ ازیں امریکی محکمہ داخلی سلامتی نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ تمام جلاوطن افراد کو مکمل قانونی عمل اور اپنے مؤقف کے اظہار کا حق فراہم کیا جائے گا۔

بین الاقوامی ادارہ برائے مائیگریشن کے ترجمان نے کہا کہ ادارہ وسطی افریقی حکومت کی درخواست پر بنگوئی پہنچنے والے تارکینِ وطن کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بعد از آمد معاونت فراہم کرے گا۔

ترجمان کے مطابق آئی او ایم ان افراد کی منتقلی کے عمل میں شامل نہیں ہے اور وہ اپنی خدمات مکمل رضاکارانہ بنیادوں اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق فراہم کرے گا۔

ایرانی شہریوں کی ممکنہ جلاوطنی کے منصوبے کی خبر سب سے پہلے جمعرات کو امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز نے شائع کی تھی۔

خیال رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے فروری کے آخر میں ایران پر شدید حملے شروع کیے تھے، جس کے بعد شروع ہونے والی جنگ کو اب تین ماہ گزر چکے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپریل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر جنگ بندی ہو جائے تو ان کے خیال میں ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ ایسا کرنا ایرانیوں کے لیے انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔

Read Comments