چیٹ جی پی ٹی پر بیٹی کو خودکشی کے لیے اکسانے کا الزام، ماں نے مقدمہ کر دیا

یہ مقدمہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کی ایک عدالت میں دائر کیا گیا ہے، جہاں اوپن اے آئی کو پہلے ہی اسی نوعیت کے 18 دوسرے مقدمات کا سامنا ہے۔
شائع 12 جون 2026 03:45pm

امریکا کی ایک عدالت میں ٹیکنالوجی کمپنی اوپن اے آئی اور اس کے سربراہ سیم آلٹمین کے خلاف جمعرات کو ایک انتہائی سنگین مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ کینیڈا سے تعلق رکھنے والی ایک ماں نے کمپنی پر الزام لگایا ہے کہ ان کی 24 سالہ بیٹی نے چیٹ جی پی ٹی کے اکسانے اور حوصلہ افزائی کرنے پر خودکشی کرلی۔

یہ مقدمہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کی ایک عدالت میں دائر کیا گیا ہے، جہاں اوپن اے آئی کو پہلے ہی اسی نوعیت کے اٹھارہ دوسرے مقدمات کا سامنا ہے۔

مقدمہ دائر کرنے والی خاتون کرسٹی کیریئر کے مطابق ان کی بیٹی ایلس کینیڈا کے شہر مونٹریال میں ویب ڈیولپر کے طور پر کام کرتی تھی اور شروع میں وہ کمپیوٹر اور گیمنگ کے مسائل حل کرنے کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کرتی تھی۔ لیکن بعد میں اس کا انحصار اس ٹیکنالوجی پر بہت زیادہ بڑھ گیا۔

ایلس نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں بار بار چیٹ جی پی ٹی سے اپنے ذہنی تناؤ اور خودکشی کے خیالات کا ذکر کیا، مگر کمپنی کے حفاظتی نظام نے ان خطرناک گفتگو کو روکنے یا کسی انسان تک پہنچانے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا۔

مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے ایلس کے لیے ایک ہمدرد دوست اورتھراپسٹ کا روپ دھار لیا تھا، حالانکہ وہ اس کی اہل نہیں تھی۔ اس ٹیکنالوجی نے ایلس کو اپنے قریبی ساتھی اور مدد کرنے والے اداروں سے دور کر دیا، اس کے خودکشی کے خیالات کو درست قرار دیا اور اسے مسلسل بات چیت جاری رکھنے پر ابھارا۔ یہاں تک کہ ایک موقع پر چیٹ جی پی ٹی نے ایلس سے یہ بھی کہہ دیا کہ شاید اب یہ سب کچھ ختم ہونے کا وقت ہے۔

دوسری طرف اوپن اے آئی کے ترجمان نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایلس جس ورژن کو استعمال کر رہی تھیں وہ اب دستیاب نہیں ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کسی طبی یا ذہنی علاج کا متبادل نہیں ہے، لیکن وہ ذہنی صحت کے ماہرین کی مدد سے اپنے نظام کو مسلسل بہتر بنا رہے ہیں تاکہ حساس حالات میں بہتر ردعمل دیا جا سکے۔ کمپنی کے مطابق ان کے نظام کو اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ وہ خود کو نقصان پہنچانے کا سوچنے والے لوگوں کو مدد فراہم کرنے والے اداروں کی طرف بھیجے۔

متاثرہ ماں نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ کمپنی پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے اور اسے پابند کیا جائے کہ وہ خودکشی یا خود کو نقصان پہنچانے سے متعلق گفتگو کو فوری طور پر بلاک کرے اور صارفین کو اس کے خطرات سے خبردار کرے۔

اوپن اے آئی کو اس وقت نہ صرف خودکشی کے معاملات بلکہ اسکولوں میں فائرنگ کرنے والے عناصر کی مبینہ مدد کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو وقت پر اطلاع نہ دینے جیسے دیگر مقدمات کا بھی سامنا ہے۔

Read Comments