امن معاہدہ قریب آتے ہی ایران اور امریکا کی آبنائے ہرمز میں نئی جھڑپیں
ایران اور امریکا میں امن معاہدہ ہونے سے قبل دونوں مملک کے درمیان آبنائے ہرمز میں نئی جھڑپیں دیکھنے میں آئی ہیں۔ تاہم ایک سینئر امریکی انتظامیہ اہلکار کے مطابق دونوں فریق ایک متن پر متفق ہو چکے ہیں اور واشنگٹن کو توقع ہے کہ آئندہ چند دنوں میں ابتدائی معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اگرچہ معاہدے میں ابھی تبدیلیاں ممکن ہیں، تاہم یہ عارضی سمجھوتہ اس بات کی علامت ہے کہ ایران اس تنازع میں مزید مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔ عباس عراقچی کا سرکاری ٹی وی پر کہنا تھا کہ ایران امریکا کے ساتھ جنگ کا فاتح ہے۔
عباس عراقچی کا مزید کہنا تھا کہ ایران، عمان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں ٹریفک کا کنٹرول برقرار رکھے گا۔
رپورٹ کے مطابق بعدازاں ان بیانات کے چند گھنٹے بعد امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کی طرف بڑھنے والے ایران کے متعدد ڈرونز کو مار گرائے۔
ایک باخبر ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ ڈرونز تجارتی ٹریفک کے لیے خطرہ تھے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بعد میں اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ آبی گزرگاہ اب بحری آمدورفت کے لیے کھلی ہے۔
ایرانی خبر رساں اداروں نے رپورٹ کیا کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے سیریک بندرگاہ اور قشم جزیرے میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں، جنہیں مقامی افراد اور حکام نے اس بات سے منسوب کیا کہ ایرانی فورسز نے ان جہازوں کو خبردار کرنے کے لیے فائرنگ کی جو بغیر اجازت گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
مجوزہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گا اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی ختم کی جائے گی۔
اس کے علاوہ ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت بعد میں کی جائے گی، جو کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ شروع کرنے کی بنیادی وجہ قرار دی گئی تھی۔
ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ یہ معاہدہ ٹرمپ کے بنیادی مقاصد کو پورا کرتا ہے اور مذاکرات کو انتہائی بہتر صورتحال میں لے آیا ہے۔
دوسری جانب مغربی، پاکستانی اور ایرانی ذرائع سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق مجوزہ شرائط ایران کے حق میں زیادہ جھکاؤ رکھتی ہیں، جس پر صدر ٹرمپ نے تنقید کرتے ہوئے ان رپورٹس کو غلط قرار دیا ہے۔
اگرچہ تفصیلات میں معمولی اختلافات موجود ہیں، تاہم مجموعی تجاویز میں تہران کو وہ زیادہ تر مطالبات ملتے دکھائی دیتے ہیں جو وہ عرصے سے کر رہا تھا، جبکہ ٹرمپ کو آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی کے علاوہ زیادہ کچھ حاصل ہوتا نظر نہیں آتا، جسے ایران اور اسرائیل کے حملوں کے بعد فروری میں بند کیا گیا تھا۔
ایک مغربی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ معاہدے پر اتوار کو امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس اور ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف دستخط کر سکتے ہیں، جبکہ جنیوا کو ممکنہ مقام قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انتظامیہ کے اہلکار نے کہا کہ دستخط کی جگہ کے لیے یورپ بھی زیرِ غور ہے، تاہم ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ تاہم عراقچی کے مطابق معاہدے پر دستخط براہ راست نہیں بلکہ غیر حاضری میں کیے جائیں گے۔
معاہدے کی تفصیلات کے مطابق امریکا منجمد ایرانی اثاثوں کے اربوں ڈالر جاری کرے گا اور ایران کی تیل برآمدات پر پابندیاں نرم کرے گا، اس کے بدلے ایران آبنائے ہرمز کو کھولے گا۔
ایران کے جوہری پروگرام پر 60 روزہ مذاکرات کیے جائیں گے۔
ایک امریکی اہلکار کے مطابق حتمی معاہدے کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ ہوگا، جس کے تحت انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو تلف اور منتقل کیا جائے گا، اور تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے طویل المدتی معائنہ جاتی نظام بھی شامل ہوگا۔
تاہم اس پر عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے خاتمے کو قبول نہیں کیا اور وہ اپنے افزودہ یورینیم کو صرف کمزور حالت میں رکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران کے لیے اس ذخیرے کا واحد حل یہی ہے۔
تجاویز میں ایران کے لیے ممکنہ جنگی معاوضوں پر بات چیت اور امریکا کی جانب سے ایران کے میزائل پروگرام پر طویل عرصے سے عائد پابندیوں کے خاتمے پر بھی غور شامل ہے، تاہم امریکی اہلکار نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔
رائٹرز کے مطابق ایک امریکی اہلکار کا کہنا تھا کہ جب تک وہ اپنی شرائط پر عمل نہیں کرتے ان کے کسی بھی فنڈز جاری نہیں ہوں گے۔ آبنائے ہرمز کھلی رہے گی۔ ایران کو دہشت گرد گروہوں کی مالی معاونت نہیں کرنے دی جائے گی۔ یہ ایک کارکردگی پر مبنی معاہدہ ہے۔