فیفا میچ کے دوران نسل پرستانہ حرکت؛ میکسیکن تجارتی گروپ کے سربراہ نوکری سے فارغ

جنوبی کوریائی انفلوئنسر کی جانب نسلی تعصب پر مبنی اشارہ کرنے کی ویڈیو وائرل، سوشل میڈیا پر شدید ردعمل
شائع 15 جون 2026 09:23am

فیفا ورلڈ کپ کے ایک میچ کے دوران جنوبی کوریا کی معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر کے ساتھ مبینہ نسل پرستانہ رویہ اختیار کرنے پر میکسیکو کی ایک پیشہ ور تنظیم کے سربراہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شدید تنقید کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

فیفا ورلڈ کپ کے دوران جنوبی کوریا کی سوشل میڈیا شخصیت کے خلاف مبینہ نسل پرستانہ اشارہ کرنے پر میکسیکو کی ایک تجارتی و پیشہ ورانہ تنظیم کے سربراہ کو عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔

دی کوریا ہیرالڈ کے مطابق جالیسکو ایسوسی ایشن آف سروئیرز اینڈ جیومیٹکس انجینئرز کے صدر یولیسس فرنانڈو برنال میرامونتیس کو اس وقت عہدے سے ہٹا دیا گیا جب ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئی، جس میں انہیں جنوبی کوریا کی معروف انفلوئنسر یون سو جن کی جانب مبینہ طور پر نسل پرستانہ اشارہ کرتے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ جنوبی کوریا اور جمہوریہ چیک کے درمیان ورلڈ کپ میچ کے دوران پیش آیا۔ یون سو جن، جو سوشل میڈیا پر ”Incocat_t“ کے نام سے جانی جاتی ہیں اور ٹک ٹاک و یوٹیوب پر تقریباً 90 لاکھ فالوورز رکھتی ہیں، اپنی ٹیم کی 1-2 سے کامیابی کا جشن مناتے ہوئے ویڈیو بنا رہی تھیں۔

وائرل ہونے والی ویڈیو میں ان کے پیچھے بیٹھا ایک شخص، جس کی شناخت سوشل میڈیا صارفین نے برنال کے طور پر کی، ہنستا اور مختلف اشارے کرتا دکھائی دیتا ہے۔ بعد ازاں وہ آنکھوں کے کناروں کو کھینچنے جیسا اشارہ کرتا ہے، جسے مشرقی ایشیائی افراد کے خلاف ایک نسل پرستانہ علامت سمجھا جاتا ہے۔

ویڈیو میں یون سو جن اس حرکت کو دیکھنے کے بعد واضح طور پر بے چینی کا شکار دکھائی دیتی ہیں۔ انہوں نے انسٹاگرام پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کوریائی زبان میں لکھا، ”میں ورلڈ کپ کے لیے اتنی دور میکسیکو آئی، لیکن… کیا میں ضرورت سے زیادہ حساسیت کا مظاہرہ کر رہی ہوں؟“

ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید بحث چھڑ گئی۔ ہزاروں صارفین نے اس حرکت کی مذمت کی اور ذمہ دار شخص سے معافی کا مطالبہ کیا۔ متعدد افراد نے یون سو جن کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا جبکہ کئی صارفین نے کہا کہ بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں میں ایسے رویوں کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔

اس واقعے نے عالمی کھیلوں کے مقابلوں میں نسل پرستی اور امتیازی سلوک کے مسئلے پر بھی نئی بحث چھیڑ دی۔ صارفین کا کہنا تھا کہ اس قسم کے اشارے مشرقی ایشیائی نسل سے تعلق رکھنے والے افراد کے بارے میں نقصان دہ اور توہین آمیز تصورات کو فروغ دیتے ہیں۔

عوامی تنقید میں اضافے کے بعد برنال کے طرزِ عمل کا میکسیکو میں بھی جائزہ لیا گیا، جس کے نتیجے میں انہیں جالیسکو کی اس پیشہ ور تنظیم کی قیادت سے ہٹا دیا گیا۔

دوسری جانب ٹورنامنٹ میں جنوبی کوریا کے شائقین کے حوالے سے کئی مثبت مناظر بھی دیکھنے میں آئے۔ جنوبی کوریا کے نشریاتی ادارے ایم بی سی کے مطابق اسی میچ کے دوران متعدد میکسیکن شائقین کوریائی مداحوں کے ساتھ خوشیاں مناتے نظر آئے۔ بعض نے ایک کوریائی مداح کو اپنے کندھوں پر بھی اٹھایا، جسے دونوں قوموں کے درمیان دوستی اور یکجہتی کی علامت قرار دیا گیا۔

ورلڈ کپ میں جنوبی کوریا نے اپنے پہلے میچ میں جمہوریہ چیک کو 1-2 سے شکست دے کر کامیاب آغاز کیا، جبکہ میزبان ممالک میں شامل میکسیکو نے اپنے گروپ اے کے پہلے میچ میں جنوبی افریقا کو 0-2 سے ہرایا۔

جنوبی کوریا اور میکسیکو کے درمیان گروپ مرحلے کا اہم مقابلہ 18 جون کو گواڈالاخارا اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

Read Comments