لبنان کے خلاف اسرائیلی حملوں کو مکمل طور پر روکا جانا چاہیے: ایرانی وزیر خارجہ
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ لبنان کے خلاف اسرائیلی حملوں کو مکمل طور پر روکا جانا چاہیے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عباس عراقچی سعودی عرب، ترکیہ، عراق اور مصر کے اپنے ہم منصبوں سے الگ الگ ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں، جن میں خطے کی تازہ صورتحال اور لبنان پر اسرائیلی حملوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے ہم منصبوں سے گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا کہ لبنان کے خلاف اسرائیلی حملوں کو مکمل طور پر روکنا چاہیئے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے اسرائیلی کارروائیوں کا رکنا ناگزیر ہے۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ جنگ کے خاتمے سے متعلق طے پانے والے فریم ورک معاہدے پر عمل درآمد کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کو اس معاہدے کو عملی شکل دینے اور جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے یہ مؤقف اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر جاری بیان میں بھی دہرایا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ ہفتے کے آخر میں بیروت پر کیا جانے والا اسرائیلی فضائی حملہ ”نہیں ہونا چاہیے تھا“۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہ تھا کہ اسرائیل کو کسی بھی خطرے کے خلاف اپنے دفاع کا حق ہے، لیکن بیروت پر اسرائیل کا حملہ بےمعنی تھا، اس میں کوئی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حملے سے ایران ڈیل کے عمل میں خلل نہیں ہونا چاہیے، ہم لبنان سمیت مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے ڈیل کے بہت قریب ہیں۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ تمام فریقین کو پیچھے ہٹ جانا چاہیے، اسرائیل کی جانب سے لبنان میں کہیں بھی حملے نہیں ہونے چاہیئیں۔
دوسری جانب امریکا ایران امن معاہدے پر انتہا پسند اسرائیلی وزیر بن گویر نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا معاہدہ ہمارے لیے پابند نہیں ہے۔ اسرائیل امریکا کے تابع نہیں بلکہ ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہے۔
اسرائیلی وزیرِ قومی سلامتی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو لبنان میں اپنی افواج کے زیرِ قبضہ آنے والے کسی بھی علاقے سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔
اسرائیلی وزیر نے مزید کہا کہ ہم اس معاہدے کے شراکت دار نہیں ہیں کیونکہ یہ ہماری سلامتی کی ضمانت فراہم نہیں کرتا۔ ہمیں لبنان میں اپنے جنگجوؤں کے قبضے میں آنے والے کسی بھی علاقے سے واپس نہیں ہٹنا چاہیے۔