ایران کو 300 ملین ڈالر دینے کی خبریں جعلی ہیں: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خبروں کو مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکا ایران کو مالی ادائیگیاں کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے ایران کی تعمیرِ نو کے لیے مجوزہ اربوں ڈالر کے پیکج سے متعلق رپورٹس کو ”فیک نیوز“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے ایران کو رقم دیے جانے کی خبریں درست نہیں ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ یہ خبر کہ امریکا ایران کو 300 ملین ڈالر ادا کر رہا ہے، جعلی خبر ہے۔
تاہم ٹرمپ نے اپنے بیان میں 300 ملین ڈالر کا ذکر کیا، جبکہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا وہ انتظامیہ کے دیگر حکام اور بین الاقوامی میڈیا کی جانب سے زیرِ بحث لائے گئے 300 ارب ڈالر کے ممکنہ فنڈ کی بھی تردید کر رہے تھے یا نہیں۔
اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے تقریباً 300 ارب ڈالر تک کی مالی معاونت مخصوص شرائط کے تحت فراہم کی جا سکتی ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وضاحت کی تھی کہ اگر 300 ارب ڈالر کا کوئی فنڈ قائم کیا جاتا ہے تو اس کی مالی معاونت امریکی ٹیکس دہندگان کے بجائے خطے کے اتحادی ممالک کریں گے۔
این بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ اس رقم کا ایک بھی ڈالر امریکا سے نہیں آئے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ خلیجی عرب ممالک اسی صورت میں سرمایہ کاری پر آمادہ ہو سکتے ہیں جب تہران اپنی معیشت کو سرمایہ کاری کے قابل بنائے اور ایک معمول کے ملک کی طرح طرزِ عمل اختیار کرے۔
ایک سینئر امریکی عہدیدار نے اس سے قبل تصدیق کی تھی کہ اربوں ڈالر کے فنڈ کا تصور سفارتی مذاکرات کا حصہ رہا ہے، تاہم اس حوالے سے کسی بھی مالی پیش رفت کو مکمل طور پر کارکردگی سے مشروط رکھا گیا ہے۔
ادھر فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس فنڈ کے قیام کا انحصار ایک حتمی تصفیے پر ہوگا، جس میں 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی شامل ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس فنڈ کا سرمایہ غالباً ایسے فریم ورک کے تحت منظم کیا جائے گا جس کے ذریعے ایرانی منڈیوں میں دلچسپی رکھنے والی نجی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کا موقع فراہم کیا جائے، جبکہ یہ رقم براہِ راست حکومت سے حکومت کو دی جانے والی امداد کی شکل میں نہیں ہوگی۔